وزیرستان: ڈرون حملے میں پانچ افراد ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مبینہ امریکی ڈرون حملےمیں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

فائل فوٹو، ڈرون
Image caption حملے میں جس مکان کو نشانہ بنایا گیا وہ حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان ایک ٹھکانے کے طورپر استعمال کر رہے تھے: مقامی لوگ

حملے میں ہلاک ہونے والے افراد حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر اور منگل کے درمیانی شب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے تقریباً پچاس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل دتہ خیل کے پہاڑی علاقے بویا کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب ایک مُبینہ امریکی جاسوس طیاریں نے محمد طارق کے مکان کو نشانہ بنایا۔

اس حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

نامہ نگار دلاور خان وزیر نے سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں مکان کے تین کمرے مکمل طور پر تباہ جب کہ دو کمروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ حملے میں مکان کے اندر کھڑی ایک گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بویا کا علاقہ افغان سرحد سے صرف چند کلومیٹر پاکستان کے اندر واقع ہے۔ جہاں مقامی طالبان کے کئی ٹھکانے موجود تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے میں جس مکان کو نشانہ بنایا گیا وہ حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان ایک ٹھکانے کے طورپر استعمال کر رہے تھے۔اس علاقے میں عام آبادی بہت کم ہے اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں میں کمی آئی تھی اوراس پہلے ایک وقت میں کئی کئی ڈرون طیارے فضاء میں موجود ہوتے تھے۔ جس سے عام شہریوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

سرکاری عداد و شمار کے مطابق رواں سال شمالی و جنوبی وزیرستان میں ساٹھ سے زائد ڈرون حملے ہوچکے ہیں جس میں دو سو سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری بتائے جاتے ہیں۔