بیساکھی: دو ہزار بھارتی یاتریوں کی شرکت

پاکستان میں ہر سال کی طرح رواں برس بھی سکھوں نے بیساکھی کا تہوار بڑے جوش اور جذبے سے منایا اور اس تہوار میں بھارت سے آنے والے تقریباً دو ہزار سکھ یاتریوں نے بھی شرکت کی۔

بیساکھی کی بڑی تقریب حسن ابدال میں ہوئی جہاں سکھوں کا مذہبی مقام گرودوارہ پنجہ صاحب ہے۔

بھارت اور پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں سے سکھ گرودوارہ پنجہ صاحب میں مختلف مذہبی رسومات میں شریک ہوئے اور اپنے من کی مراد کے لیے دعائیں مانگی۔

بیساکھی سکھ مذہب کا سب سے بڑا اور پرانا تہوار ہے جو ہر سال کی تیرہ اور چودہ اپریل کو منایا جاتا ہے۔ رواں برس اس تہوار کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور گرودوارہ کے خارجی اور داخلی راستوں پر پولیس کی بڑی نفری تعینات تھی۔

Image caption ’پاکستان آنے کے بڑی خواہش تھی اور گرو نانک نے پوری کر دی‘

بھارتی ریاست ہریانہ کے رہنے والے جسوندر سنگھ پہلی بار اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان آئے اور وہ گرودوارہ پنجہ صاحب میں اپنے آپ کو دیکھ کر خوش ہیں۔ انہوں نے کہا ، ’مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے اور میرے پاس اتنے الفاظ نہیں ہے کہ بیان کر سکوں۔ پاکستان آنے کے بڑی خواہش تھی اور گرو نانک نے پوری کر دی‘۔

پاکستان میں ہو رہے خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے بارے میں انہوں نے کہا، ’لوگوں نے بہت ڈرایا تھا کہ پاکستان خاندان کے ساتھ مت آؤ لیکن آنے کی خواہش تھی۔ جو پاکستان میں ہو سکتا ہے وہ بھارت میں بھی ممکن ہے‘۔

ضلع امرتسر کے سردار رگھویر سنگھ کئی سالوں سے پاکستان آنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس بار انہیں اپنی مذہبی جگہوں کے درشن کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایا، ’ہم ان دونوں ملکوں سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ پیار اور امن کے ساتھ رہیں اور دونوں ممالک ایسا انتظام کریں کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ملک میں آنے اور جانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے‘۔

Image caption بھارت سے تقریباً دو ہزار سکھ یاتری پاکستان آئے

سردار رگھویر نے انتظامیہ سے گذارش کی کہ سکھ یاتریوں کو دن کی روشنی میں ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اس ملک کے دیہاتوں کو بھی دیکھ سکیں۔

بھارتی شہر بٹالہ کے ستنام سنگھ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو پہلی بار پاکستان آئے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے والد نے پاکستان آکر دعا مانگی تھی جس کے بعد ان کی پیدائش ہوئی۔

حسن ابدال کے بعد بھارتی سکھ گرو نانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب اور لاہور بھی جائیں گے۔