ڈاکٹر اسرار احمد انتقال کر گئے

پاکستان کے ایک معروف مذہبی سکالر اور تنظیم اسلامی کے بانی سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد بدھ کی صبح لاھور میں انتقال کر گئے۔

فائل فوٹو، ڈاکٹر اسرار
Image caption ڈاکٹر اسرار چھبیس اپریل سنہ انیس سو بتیس کو موجودہ بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے

ڈاکٹر اسرار کے بیٹے ڈاکٹر عاکف نے میڈیا کو بتایا کہ ڈاکٹر اسرار طویل عرصے سے کمر کے تکلیف اور دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ انھوں نے بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ان کی کمر میں شدید درد ہوا اور وہ رات ساڑھے تین بجے کے قریب انتقال کر گئے۔

ان کی نماز جنازہ ماڈل ٹاؤن کے سنٹرل پارک میں شام پانچ بجے ادا کی جائے گی۔

ڈاکٹر اسرار کی عمر اٹھہتر برس تھی۔ وہ جماعت اسلامی کے اولین بانی کارکنوں میں سے تھے لیکن بعد میں مولانا سید ابو الاعلی مودوی سے اختلافات کی وجہ سے جماعت اسلامی سے الگ ہو گئے اور اپنی علیحدہ جماعت ’تنظیم اسلامی‘ بنا لی۔

اس کے بعد انھوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور درس و تدریس سے وابسطہ ہو گئے۔

ڈاکٹر اسرار نے کچھ عرصہ قبل بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ایک اسلامی مذہبی ٹی وی چینل شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت سے انھیں اجازت نہیں مل رہی ہے۔

ڈاکٹر اسرار مختلف نجی مذہبی ٹی وی چینلز پر خطبے دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ تبیلغ کی غرض سے متعدد بار بھارت کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر اسرار چھبیس اپریل سنہ انیس سو بتیس کو موجودہ بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے انیس سو چون میں لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈکل کالج سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں سنہ انیس سو پینسٹھ میں کراچی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں