پاکستان کی جوہری ایندھن کی پیشکش

دنیا میں جب جوہری ایندھن کو محفوظ اور کم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں تو ایسے میں پاکستان نے عالمی جوہری ادارے ’آئی اے ای اے‘ کے وضح کردہ اصولوں کے تحت دنیا کو جوہری ایندھن فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

صدر اوباما اور وزیراعظم گیلانی
Image caption عالمی جوہری کانفرس کے موقع پر صدر اوباما اور وزیراعظم گیلانی کی ملاقات

پاکستان نے یہ پیشکش واشنگٹن میں جوہری خطرات کو روکنے اور جوہری اسلحہ کو محفوظ بنانے کے متعلق منعقد کانفرنس میں پش کردہ ’پیپرز‘ میں کی ہے۔

’پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ اور بااعتبار‘

یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر براک اوباما نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو محفوظ اور قابل اعتماد قرار دیا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے امریکی صدر کا یہ بیان پاکستان پر جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے ہونے والی تنقید کو جہاں کم کرنے میں مدد دے گا وہاں امریکہ سے ’سویلین نیوکلیئر کوآپریشن‘ یا سویلین جوہری تعاون کا حصول بھی آسان ہوگا۔

لیکن کچھ ایسے ماہرین بھی ہیں جن کا کہنا ہے فی الوقت ایران کے تناظر میں امریکہ پاکستان کی حمایت کے پیشِ نظر ایسا کر رہا ہے اور وہ جب چاہیں پاکستان کے خلاف پھر سے مہم شروع کرسکتے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام کے متعلق اطمینان ظاہر کرنے کی پالیسی کے ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے دنیا کو جوہری ایندھن فرام کرنے کی پیشکش کی گئی ہے کہ پاکستان کے پاس’ایڈوانس نیوکلیئر فیول سائیکل کیپیبلٹی‘ موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس بجلی پیدا کرنے سے بم بنانے کی مختلف سطحوں تک یورینیم کی افزودگی کی جہاں سہولت اور ٹیکنالوجی موجود ہے وہاں خام مال (یورینیم) بھی وافر مقدار میں موجود ہے۔ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں ’گلوبل وارمنگ‘ اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے توانائی کے حصول کے بارے میں جوہری بجلی پر انحصار بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کے ایک جوہری ماہر ڈاکٹر نعمان فضل قادر جو ان دنوں متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں اب ڈیڑھ اور دو گیگا واٹ کے جوہری ری ایکٹر کی تیاری پر کام شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے جوہری ایندھن فراہم کرنے کی جو پیشکش کی ہے وہ دنیا میں جوہری بجلی پر بڑھتے ہوئے انحصار اور آنے والے دنوں میں جوہری ایندھن کی مانگ بڑھنے کے پیش نظر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اگر اجازت ملتی ہے تو وہ ’دنیا میں جوہری ایندھن کے ملٹی ٹرلین ڈالر مارکیٹ سے اپنا حصہ حاصل کرسکتا ہے‘۔

تاہم انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں سخت متعصب رویہ پایا جاتا ہے اور پاکستان کو شاید ہی اس کی اجازت ملے۔ ان کے بقول بھارت کو ساتھ امریکہ، روس، فرانس اور اسرائیل کا تعاون حاصل ہے اور وہ انہیں کافی مراعات بھی دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر نعمان فضل قادر نے بتایا کہ دنیا میں تقریباً چار قسم کے ری ایکٹرز میں جوہری ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ ان میں نیچرل یعنی خام یورینیم، نچلے، درمیانے اور اعلیٰ گریڈ کا فیول شامل ہے۔ ان کے مطابق ہائی گریڈ فیول میں اسی فیصد یا اس سے زیادہ افزودہ یورینیم استمال ہوتا ہے اور اُسی نوعیت کا افزدوہ یورینیم جوہری بم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور پاکستان میں تمام درجوں کا ایندھن بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اگر ایک اعشاریہ دو گیگا واٹ کا ری ایکٹر بھی ملے تو پاکستان کی توانائی کی مانگ پوری ہوسکتی ہے اور پاکستان سستی بجلی پیدا کرسکتا ہے۔ ان کے بقول اس وقت پاکستان کا وہ حساب ہے کہ ایندھن تو ہے لیکن گاڑی نہیں ہے۔

اسی بارے میں