تیرہ:’درجنوں شہری ہلاک‘

خیبر ایجنسی میں کوکی خیل قبائلیوں نےالزام عائد کیا ہے کہ سنیچر کےروز فضائیہ کی بمباری میں ہلاک ہونےوالے شدت پسند نہیں بلکہ عام شہری تھے۔

دریں اثناء ایک مقامی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے میں کم سے کم تہتر شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقے کے دور دراز ہونے کی وجہ سے وہاں سے اطلاعات کے حصول میں وقت لگ رہا ہے۔

کوکی خیل قبائل نے الزام عائد کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا شدت پسندوں سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ عام شہری تھے۔ کوکی خیل قبائل کا ایک وفد نے پولٹیکل انتظامیہ سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے سویلین ہلاکتوں کی شکایت کی ہے۔ پولٹیکل انتظامیہ نے ہلاک ہونے والے کو لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے ایک کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے۔

فاٹا کے سیکرٹری قانون کیپٹن طارق خان سے بات چیت

مقامی صحافی نصراللہ آفریدی سے بات چیت

بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیورن نے اسلام آباد میں بتایا کہ معاوضے کی رقم سے اندازہ ہوتا ہے کہ کم سے کم مقاگمی سطح پر حکام کا خیال ہے کہ ایک افسوسناک غلطی ہو گئی ہے۔

بمباری میں زخمی ہونے والےاشخاص کو پشاور کے ہسپتالوں میں لایاگیا ہے جہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ پشاور میں بی بی سی کے نمائندے دلاور وزیر نے پشاور کے علاقے حیات آباد میں لانے جانے والے کچھ مریضوں کو ملنے کی کوشش کی لیکن انہیں وہاں نہیں جانے دیا گیا۔ پولیس اہلکار ان مریضوں کے پاس موجود ہیں اور وہ وہاں کسی کو جانے نہیں دیا جا رہا۔

تیرہ سے پشاور کے ہسپتالوں میں لائے گئے مریضوں کے ایک رشتہ دار نیاز امین نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ’تمام بے گناہ‘ شہری تھے اور ان کا شدت پسندوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

سنیچر کے روز قبائلی علاقے تیرہ میں پاکستان فضائیہ کے طیاروں نے بمباری کی تھی جس کے بعد یہ کہاگیا تھا کہ چالیس سے زیادہ شدت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان اطہر عباس نے کہا تھا کہ تیرہ میں بمباری کے بعد ہلاک ہونےوالے شدت پسندوں کی ایک بڑی تعداد باجوڑ اور دوسری ایجنسیوں سے بھاگ کر خیبر ایجنسی میں جمع ہوگئی ہے جن کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

فاٹا کےسیکریٹری قانون کیپٹن طارق خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کوکی خیل قبائل نے ہلاکتوں پر احتجاج کیا ہے اور ان کا ایک وفد پولیٹکل انتظامیہ سے ملا ہے۔ کیپٹن طارق نے کہا کہ حکومت کے پاس ہلاک شدگان کی فہرست پہنچ گئی ہے جس کی تحقیق کی جا رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ثابت ہوگیا کہ ہلاک ہونے والوں کا شدت پسندوں سے کوئی تعلق نہیں تھا تو ان کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نہ تو پہلے شدت پسندوں کو معاوضہ دیا ہے اور نہ اب دے گی۔

خیر ایجنسی سےتعلق رکھنے والےصحافی نصراللہ آفریدی نے بتایا کہ قبائلی علاقوں سےملنےوالی اطلاعات کےمطابق ہلاک ہونے والے عام شہری تھے۔

پاکستان ہیومین رائٹس کمیشن کے وادی تیرہ میں تفتیش کار زرطیف خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ جب طیارے کی بمباری میں ہلاک ہونے والے افراد کی فاتحہ خوانی کے لیے ان گھرگئے تو ان کو وہاں پتہ چلا کہ پہلے تیرہ میں حمید نامی ایک شخص کے گھر پر بم پھینکاگیا۔ جب لوگ مدد کرنے پہنچے جس میں اکثریت قریب ہی سڑک تعمیرکرنے والے مزدورں کی تھی تو دوبارہ بمباری کر دی گئی۔ ہیومن رائٹس کے تفتیش کار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد بانوے ہے جن میں چھیبس بچے اور چھ عورتیں شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد ستر سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں