آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 اپريل 2010 ,‭ 06:04 GMT 11:04 PST

ہزارہ: احتجاج کا خاتمہ، حالات معمول پر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

یہ ویڈیو رپورٹ ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بدھ کو تیار کی تھی

پاکستان کے صوبہ سرحد کے ہزارہ ریجن میں صوبے کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخواہ رکھے جانے کی تجویز کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ تھم گیا ہے اور ڈویژن کے مختلف شہروں میں حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

احتجاج کا خاتمہ بدھ کی شام اس وقت ہوا جب صوبہ ہزارہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سردار حیدر زمان نے ایبٹ آباد شہر کا دورہ کیا اور مظاہرین سے منشتر ہونے اور احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی۔

ایبٹ آباد سے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق اس اپیل کے بعد لوگ منتشر ہونا شروع ہوگئے اور جمعرات کی صبح حالات معمول کے مطابق نظر آئے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور کی تمام چھوٹی بڑی سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹا لی گئی ہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔

ایبٹ آباد میں نافذ دفعہ ایک چو چوالیس بدھ کی دوپہر ہی اٹھا لی گئی تھی۔ جمعرات کو مظاہرین بھی سڑکوں پر نہیں نکلے اور ایبٹ آباد شہر میں دکانیں کھلنے کا عمل جاری رہا اور شہر کی بڑی مارکیٹوں میں چہل پہل نظر آئی۔

اس سے قبل بدھ کو مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے بھی ہزارہ ریجن کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران ہری پور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو ہزارہ صوبے پر کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم اس کے لیے کوئی طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں علیحدہ ہزارہ صوبے کے مطالبے پر متفق ہو جاتی ہیں تو ان کی جماعت کو ہزارہ کے الگ صوبے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

انہوں نے صوبہ سرحد کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہزارہ صوبے کی تحریک کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کی مالی مدد کرے۔

نواز شریف کے پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ لوگوں کو اکسا رہے ہیں اور اس حالیہ تشدد کے ذمہ دار ہیں۔ نواز شریف نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے ان اقدامات کا نوٹس لے اور ذمہ دار افراد کو سزا دے۔

خیال رہے کہ گزشتہ چار دن سے ایبٹ آباد سمیت ہزارہ ریجن کے متعدد شہروں میں حالات انتہائی کشیدہ تھے اور ان علاقوں میں ہزارہ صوبے کے مطالبے پر پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری تھا۔ اس احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔