رپورٹ میں کوئی نہیں بات نہیں

پاکستان کی کئی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بے نظیر کے قتل پر اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں جو یہ کہا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو اور اس وقت کے صدر جرنل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے درمیان کوئی ٹھوس معاہدہ نہیں ہو ا تھا درست نہیں ہے۔

عمران خان: فائل فوٹو
Image caption ’اس میں کوئی شک نہیں کہ بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف کے درمیان معاہدہ ہوا تھا‘

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے اگرچہ بے نظیر بھٹو کے پاکستان آنے سے پہلے ان کے اور اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی انتظامیہ کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں تھیں لیکن ان ملاقاتوں کے نتیجے میں دونوں کے درمیان کوئی ٹھوس معاہدہ طے نہیں پایا جا سکا تھا۔

پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتوں کے رہنما یہ برملا کہتے رہیں ہیں کہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی ایک معاہدے یا ڈیل کے سبب ہوئی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس رپورٹ میں کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جو پاکستان کے ذرائع ابلاغ پر پہلے نہ کی گئی ہو یا پاکستانی عوام یہ نہ جانتے ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک بے نظیر بھٹو اور سابق صدر کے درمیان معاہدے کی بات ہے تو اس ضمن میں سینیٹر پرویز رشید کے مطابق اس رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ان دونوں کے درمیان مل کر حکومت بنانے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا لیکن ہمارے ہاں یہ بات کی جاتی ہے کہ بے نظیر این آر او کے نتیجے میں پاکستان آئیں تھیں اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ این آر او کے تحت معاملات طے پا گئے تھے اس کا ذکر تو خود بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ق کے سیکریٹری اطلاعات اور سابق سینیٹر کامل علی آغا کہتے ہیں کہ یہ تو قطعی طور پر غلط بات ہے کہ بے نظیر بھٹو کسی ڈیل کے ذریعے پاکستان نہیں آئیں۔ اس وقت ان دونوں کے درمیان جن لوگوں نے بات چیت کی وہ بھی موجود ہیں اور خود پرویز مشرف چند ماہ پہلے یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اگر بے نظیر زندہ ہوتیں تو وہ پاکستان کی وزیر اعظم ہوتیں اور خود پرویز مشرف پاکستان کے صدر ہوتے۔

کامل علی آغا نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کوئی ایسی بات نہیں جس کے ذریعے بے نظیر بھٹو کے قاتلوں تک پہنچا جا سکے لیکن اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ بے نظیر بھٹو کو سکیورٹی فراہم کرنا صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی ذمہ داری تھی کیونکہ اس وقت عبوری حکومت تھی اور پرویز مشرف ایک طاقت ور صدر تھے۔

تحریک انصاف پاکستان کے چئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اقوام متحدہ سے یہ تحقیقات کروا کر وقت اور کروڑوں روپے ضائع کیے ہیں اور اس رپورٹ میں کوئی بھی نئی بات یا نیا انکشاف نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف کے درمیان کسی ٹھوس معاہدے کی بات ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ بے نظیر بھٹو اور ان کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں بے نظیر پاکستان آئیں لیکن ہو سکتا ہے کہ بعد میں وہ معاہدے کی کچھ شقوں سے پیچھے ہٹ گئیں ہوں کیونکہ انہیں یہاں ا کر احساس ہوا تھا کہ صدر پرویز مشرف کے خلاف عوام میں بہت نفرت ہے اور ان کا ساتھ دینے سے انہیں سیاسی طور پر نقصان ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ اس وقت کی امریکہ کی بش انتظامیہ نے بے نظیر بھٹو اور پرویز کے درمیان ڈیل کروائی تھی۔

جماعت اسلامی کہ سابق امیر قاضی حسین احمد کا بھی یہی کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد این آر کو ذریعے ملنے والی چھوٹ تھی کہ انہیں پاکستان آنے پر گرفتار نہیں کیا جائے گا اس لیے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور بے نظیر کے درمیان این آر او کی شکل میں ہونے والی ڈیل کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

اسی بارے میں