بینظر قتل: ایجنسیوں کا رول ’مشکوک‘ تھا

بینظیر قتل: حملے کے بعد کے مناظر
Image caption حملے کے ایک گھنٹے چالیس منٹ میں جائے واردات کو پانی سے دھو دیا گیا

اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے حالات و حقائق جاننے والی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واردات سے قبل خفیہ ایجنسیاں غفلت کی مرتکب ہوئیں اور واردات کے بعد تحقیات میں رکاوٹیں ڈالتی رہیں۔

مکمل رپورٹ یہاں پڑھیے:

رپورٹ کے مطابق پولیس کے ایک افسر نے کمشین کو بتایا کہ جاسوس اداروں آئی ایس آئی ، ایم آئی اور ملٹری انٹلیجنس کے اہلکار موقع پر موجود تھے اور ان کے پاس جائے واردات سے شواہد اکٹھے کرنے کی پولیس سے بہتر اور جدید آلات تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ نہیں کیا اور جائے واردات کو دھو دیا گیا جس سے ہزاروں شواہد غائب کردی گئيں جن میں انسانی اعضا، دو پستول، چلی ہوئی گولیاں اور بینظیر بھٹو کی تباہ شدہ گاڑی بھی شامل تھی۔

یو این کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے ایک گھنٹے چالیس منٹ کے بعد جائے واردات پانی سے دھو دی گئي جس کی مثال دنیا میں ہونے والے جرائم میں مشکل سے ملتی ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ جائے واردات پر موجود آگ بجھانے والے عملے کو حکم رالپنڈی کے ایس پی خرم شہزاد نے دیا تھا جسے سیپی او پنڈی سعود عزیز نے دی تھی۔ کمیشن نے کئی سینئر پاکستانی پولیس افسران کے کمشین کے سامنے بیانات کے حوالے سے بینظیر بھٹو کے قتل کی جائے واردات کو دھو ڈالنے کو مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے تاہم کمیشن نے پولیس افسران کی طرف سے بینظیر بھٹو کے قتل میں شعوری کوتاہی کو انٹیلجنس ایجنیسوں کا ڈر قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے صفحہ نمبر 33 میں یہ کہا گیا ہے کہ کمیشن کو ایک شخص نے نام نہ ظاہرکرنے کے شرط پر بتایا تھا کہ ان کو ایس ایس پی سعود عزیز نے رازداری میں کہا تھا کہ کہ ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ میجر جنرل ندیم اعجاز نے ان کو ہدایت دی تھی کہ جائے واردات کو پانی سے دھلوا دیں۔ اس کے علاوہ تین پولیس اہلکار سمیت کئی افراد نے بھی کمیشن کو بتایا کہ ’سب کو معلوم ہے کہ یہ حکم کس نے دیا‘ تاہم ان افراد نے اس کی وضاحت کرنے سے گریز کیا اور خاصےڈرے ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں آئی ایس آئی کے افسر موجود تھے اور رپورٹ کےصفحہ نمبر 30 پر بتایا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کو ہسپتال لے جانے کے بعد آئی ایس آئی کے ایک افسر کرنل جہانگیر اختر وہاں موجود رہے اور ڈاکٹروں سےرابطے کرتے رہے۔ آئی ایس آئی کے اس کرنل نے اپنے موبائل فون پر سینئرڈاکٹر پروفیسر مصدق خان کی آئی ایس آئی کے نائب ڈائریکٹر جنرل سے بات کرائی۔ جب کمیشن نے آئی ایس آئی کے اس نائب ڈی جی میجر جنرل نصرت نعیم سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے پہلے تو اس سے انکار کر دیا لیکن پھر بعد میں اعتراف کیا کہ انہوں نے اس لیے فون کیا تھا تاکہ وہ اپنے اعلی افسران کو مطلع کرنے سے پہلے ڈاکٹر مصدق سے خود یہ جان سکیں کہ بینظیر بھٹو کا انتقال ہو چکا ہے۔

کمیشن نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کی اسٹیبلشمینٹ اور انٹیلیجنس اینجنسیوں کو بینظیر بھٹو کی حفاظت کرنے میں ناکام قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے قتل کی تحقیقات کو بھی جان بوجھ کر ناکام بنایا۔

کمیشن نے جائے واردات پر سب سے پہلے آئي ایس ائی کی موجودگی ہونے، بینظیر بھٹو کی تباہ شدہ گاڑی کو وہاں سے لے جانے اور بعد میں تھانے پر اسی گاڑی سے انکی جوتی کو ہٹوا دینا اور پھر جوتی کو گاڑی میں رکھوا دینے کو بھی شواہد کے قابل اعتبار ہونے میں مداخلت قرار دیا ہے۔

کمیشن نے بینظیر بھٹو کی تباہ شدہ گاڑی تک پولیس تفتیش کاروں کی راہ میں ائي ایس آئی اور آئی بی سمیت انٹیلیجنس ایجنسیوں کی طرف سے شدید رکاوٹیں ڈالنے کو بھی متنازعہ اور مشکوک قرار دیا ہے۔

کمیشن نے بینظیر بھٹو کی سیکیورٹی پر مامور ذمہ داروں کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا۔ کمیشن نے واضح طور پر اس پر سخت سوال اٹھائے کہ لیاقت باغ راولپنڈی میں ستائيس دسبمر کو حملے کے بعد بینظیر بھٹو کے لیے موجود بلٹ پروف مرسیڈیز کے بجائے انہیں ایک خراب گاڑی میں ہسپتال روانہ کیا گیا۔

تاہم کیمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ’ہیروازم‘ یعنی بہادری کو سراہا ہے جنہوں نے بینظیر بھٹو کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان دے دی۔

کمیشن نے بینظیر بھٹو کا پوسٹ مارٹم نہ کروانے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے سات گھنٹوں بعد تک یعنی چکلالہ ائیر پورٹ پر انکی میت آصف علی زرداری کے ہاتھوں وصول کرنے کے وقت تک راولپنڈی جنرل ہسپتال میں ان کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا گیا۔

کمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے بینظیر بھٹو کی سیکورٹی کے انتظامات کو انتہائي ناقص قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بینظییر بھٹو کو خطرات میں چھوڑ دیا گیا اور حملے کے بعد ان کو اسی گاڑی میں منتقل کیا گیا جسے نقصان پہنچا ہوا تھا جس میں بینظیر بھٹو ہسپتال پہنچائے جانے کے قابل نہیں تھیں جبکہ انکے قافلے میں انکی بلٹ پروف مرسیڈيز غیرذمہ دارانہ طور پر کافی آگے نکل چکی تھی۔

کمیشن نے پاکستانی سیاست میں جاسوسی یا انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار کا ہر پہلو سے جائزہ لیا ہے اور کہا ہے کہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلجنس ایجنیسوں کا بینظیر بھٹو کی وطن واپسی سے لے کر انتخابات کروانے تک پاکستان کی سیاست میں مرکزی کردار رہا ہے اور یہ ایجنسیاں انتخابات کروانے سے لے کر بینظیر بھٹو کی مشرف حکومت سے مذاکرات تک شامل رہی تھیں۔

کمیشن نے کہا ہے کہ جولائی دو ہزار سات میں دبئی میں سابق صدر پروی‍ز مشرف سے ملاقات کے بعد بینظیر بھٹو کی طرف سے انتخابات میں انٹیلجینس ایجینسوں کی عدم مداخلت کا جائزہ لینے کے لیے بینظیر بھٹو نے اپنا ایک ایلچـی پاکستان میں انتخابی فہرستوں کے شفاف ہونے کا جائزہ لنے کیلیے بھیجا تھا۔ اس ایلچی کے دورے کا بندوبست تب جنرل کیانی نے خود کیا تھا۔ کمیشن نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی سے لیکر انتخابات کروانے تک انٹیلجنس ایجینسوں نے مرکزی کردار اد کیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جاسوسی ایجنسیاں نہ فقط دہشتگردوں کے فون ٹیپ کیا کرتی ہیں بلکہ سیاستانوں اور صحافیوں کے بھی جو کہ بغیر کسی عدالتی احکامات کے غیر قانونی اور بےجا ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ جن پیچدہ سوالات کے جوابات رہتے ہیں ان میں سوال یہ ہے کہ ہجوم کو بنیظیر بھٹو کی گاڑی کے گرد جمع ہونے کی اجازت کیوں دی گئی؟ بینظیر کی موت کی وجہ بندوق کی گولیاں تھیں یا بم دھماکہ؟ پوسٹ مارٹم ہسپتال میں کیوں نہیں کیا گیا؟ اور جائے واردات کو واقعے کے دو گھنٹوں کے اندر کیوں دھو ڈالا گیا ؟

کمیشن نے کہا ہے کہ بنظیر بھٹو پر خودکش حملے کا ساڑھے پندرہ سالہ ملزم صرف اکیلا نہیں ہوسکتا۔

کمیشن کے سربراہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کمیشن نے سعودی عرب کی انٹیلجنس کے سربراہ س سے انٹرویو کرنے کی درخواست کی تھی جو انہوں نے مسترد کردی جبکہ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے بھی اپنی مصرفیات کی وجہ سے انٹرویو دینے سے معذرت کردی تاہم انہوں نے کہا کہ انہوں نے دبئي کے وزیر خارجہ سے بات چیت کی تھی ۔

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان کے عوام وسیع طور پر بینظییر بھٹو کےقتل کو ایک زمین جھنجھوڑ دینے والا المناک واقعہ سجمتھے ہیں اور ابھی صدمے سے نہیں نکل سکے۔

کمیشن نے بینظیر بھٹو کے قتل کے چند دنوں بعد مشرف حکومت کے مشیر داخلہ برگيڈئر چیمہ کی طرف سے پریس کانفرنس کرکے انکی موت گاڑی کے سر میں ہینڈل لگنے سے اور اسکے پیچھے بیت اللہ محسود کے ہاتھ ہونے کو بتانے کو بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کو خراب کرنے اور روکنے کی کوشش قراردیا۔

کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ کسی شحص یا ادارے کو مجرم ٹھہرانا کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا لیکن یہ کام پاکستانی حکومت کا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ واران اور منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔

اسی بارے میں