’شہریوں کی ہلاکت پر معذرت‘

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے تیرہ میں فضائیہ کی بمباری میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی ہلاکت پر معذرت کی ہے۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی میں کوکی خیل قبائلیوں نےالزام عائد کیا تھا کہ دس اپریل کو فضائیہ کی بمباری میں ہلاک ہونےوالوں میں درجنوں عام شہری بھی شامل تھے۔

کوکی خیل قبائل نے الزام عائد کیا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کا شدت پسندوں سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ عام شہری تھے۔ کوکی خیل قبائل کے ایک وفد نے پولٹیکل انتظامیہ سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے شہریوں کی ہلاکتوں کی شکایت کی۔ پولیٹکل انتظامیہ نے ہلاک ہونے والے کو لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے ایک کروڑ روپے کی رقم مختص کی تھی۔

تیراہ: ’درجنوں شہری ہلاک‘

فاٹا کے سیکرٹری قانون کیپٹن طارق خان سے بات چیت

مقامی صحافی نصراللہ آفریدی سے بات چیت

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج کے سربراہ نے کوکی خیل قبیلے کے متاثرہ خاندانوں سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل اطہر عباس نے کہا ’اس حملے میں نادانستہ اور حادثاتی طور پر عام شہری ہلاک ہوئے تھے اور ککی خیل قبیل کے افراد نشانہ بنے جس پر فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی نے اپنے بیان میں اس قبیلے سے معذرت کی ہے۔‘

انہوں نے کہا ’ماضی میں سوات، جنوبی وزیرستان اور باجوڑ آپریشن کے دوران فوج نے بہت احتیاط کا مظاہرہ کیا اور اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ عام شہریوں کا نقصان نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں فوجی کارروائیوں کے دوران اتنے زیادہ عام شہری ہلاک نہیں ہوئے اور یہ پہلی بار ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں عام شہری نشانہ بنے اور اسی لیے فوج کے سربراہ نے ضروری سمجھا کہ ککی خیل قبیلے سے معذرت کی جائے۔‘

دس اپریل کو ہونے بالے اس واقعہ میں زخمی ہونے والے اشخاص کو پشاور کے ہسپتالوں میں لایاگیا تھا جہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔

پشاور میں بی بی سی کے نمائندے دلاور خان وزیر نے پشاور کے علاقے حیات آباد میں لائے جانے والے کچھ مریضوں کو ملنے کی کوشش کی لیکن انہیں وہاں جانے نہیں دیا گیا۔

اسی بارے میں