باجوڑ:’اصل کام کنٹرول برقرار رکھنا ہے‘

ڈمہ ڈولا کی پہاڑیوں میں موجود غاروں میں اب بھی ان شدت پسندوں کا چھوڑا ہوا سامان موجود ہے جو کبھی یہاں کی تنگ و تاریک سرنگوں میں چھپے ہوئے تھے۔

کوٹ، ٹوپیاں، کنگھے، بیٹریاں اور پانی کی بوتلیں اس جگہ بکھری ہوئی ہیں جو کبھی شدت پسندوں کا مضبوط گڑھ تھی اور جہاں سے وہ پاکستانی فوج کے ایک بڑے آپریشن کے بعد بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں اس آپریشن کے خاتمے کے دو ماہ بعد بھی نہ تو مقامی سطح پر اور نہ ہی سرحد پار افغانستان میں اس کامیابی سے فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش نہیں کی گئی۔

اس علاقے میں ایف سی کے ہمراہ آپریشن کرنے والے باجوڑ سکاؤٹس کے کرنل نعمان سعید کا کہنا ہے کہ ’عام خیالات کے برعکس افغانستان پاکستان میں ابھرنے والے مسائل کا گڑھ ہے۔

باجوڑ میں گزشتہ بیس ماہ کے دوران ایک اندازے کے مطابق دو ہزار دو سو سے دو ہزار چار سو شدت پسند مارے گئے ہیں تاہم سات سو کے قریب سرحد عبور کر کے افغانستان کے کنہڑ صوبے میں روپوش بھی ہوئے ہیں۔

فوجی افسران کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں اب سامنے آنے والے مسائل کی جڑ وہ شدت پسند ہیں جنہیں سرحد پار محفوظ ٹھکانے اور ہتھیار میسر ہیں اور وہ سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقے میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق افغان اور نیٹو افواج زیادہ تر مواقع پر ان شدت پسندوں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتیں۔

Image caption نقل مکانی کرنے والے لوگ تو واپس آگئے ہیں

کرنل نعمان سعید کے مطابق ’انہیں زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے‘۔

شدت پسندوں سے خالی کروائے جانے والے علاقے میں تعمیرِ نو کے عمل کی سست رفتار پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان علاقوں میں شدت پسندوں کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کے لیے مقامی آبادی کو ساتھ ملانا نہایت ضروری ہے لیکن باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار کو دیکھا جائے تو وہاں زیادہ تر دکانیں بند ہیں اور وہاں مقامی آبادی کی مدد کے زیادہ آثار نظر نہیں آ رہے۔

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں میں آپریشن کے دوران طاقت کا بھرپور استعمال کیا اور اسے اس دوران فضائیہ اور توپخانے کی مدد بھی حاصل رہی۔ اس آپریشن کے نتیجے میں جہاں بہت سے دیہات کو شدید نقصان پہنچا وہیں بڑی تعداد میں لوگ بھی بےگھر ہوئے۔

اب نقل مکانی کرنے والے بہت سے لوگ واپس آ چکے ہیں تاہم ان کے دیہات کی تعمیرِ نو کا عمل دوبارہ شروع نہیں ہو سکا اور اس میں باجوڑ کے بارہ گاؤں بھی شامل ہیں۔ ان علاقوں میں بجلی اور سیوریج جیسی بنیادی سہولیات فوری طور پر مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے پاکستانی فوج اور حکومت نے بین الاقوامی مدد کی اپیل بھی کی ہے۔ ایک حکومتی اہلکار کے مطابق ’ بین الاقوامی برادری اپنا کردار صحیح طور پر ادا نہیں کر رہی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سی تنظیمیں ابتدائی جائزوں کے لیے تو علاقے کا دورہ کر کے گئیں تاہم ’وہ کوئی بھی مدد فراہم کرنے میں ناکام رہیں‘۔

مغربی حکام کا سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان کی حکومت نے فوجی کامیابی کے بعد علاقے میں تعمیرِ نو اور امداد کی فراہمی کے حوالے سے خود بھی کچھ قابلِ ذکر کام کیا ہے یا نہیں۔ پاکستانی فوج کی جانب سے اس سلسلے میں کھلے عام تو تنقید نہیں کی جا رہی لیکن حکومت کی جانب سے آپریشن کے بعد علاقے میں امدادی کارروائیوں میں تاخیر کو حکومت اور فوج کے درمیان تناؤ کی ایک وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ ڈمہ ڈولا کے غاروں میں رہنے والے شدت پسند ان غاروں کے باہر والی بال کھیلا کرتے تھے۔ وہ اس علاقے میں متوازی حکومت بھی چلا رہے تھے اور انہوں نے قبیلوں اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والے قبائلی ملک حضرات میں سے بیشتر کو قتل کر دیا تھا۔

Image caption فوجی آپریشن بھی اس عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اب اس علاقے میں اداروں کی تعمیرِ نو اور رشتے استوار کرنا فوجی کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ لیکن خود فوجی آپریشن بھی اس عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہیں غاروں سے چند کلومیٹر دور وہ جگہ ہے جہاں جون سنہ 2006 میں پہلی مرتبہ امریکی ڈرون طیاروں نے پاکستانی سرزمین کو نشانہ بنایا تھا۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے ساتھ ساتھ مقامی شہریوں کی ہلاکتوں نے باجوڑ میں شدت پسندوں کی حمایت میں اضافہ کیا تھا۔

پاکستانی حکام بھی عوامی طور پر ان امریکی حملوں کے نتائج کے حوالے سے خبردار کرتے رہتے ہیں لیکن گزشتہ ہفتے قبائلی علاقے میں پاکستانی فضائیہ کی کارروائی میں درجنوں شہریوں کی ہلاکت جیسے واقعات سے پاکستانی فوج اور اس کے ان آپریشنز کی حمایت میں بھی کمی آ سکتی ہے۔

اب جبکہ پاکستانی فوج باجوڑ کے بیشتر علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے اس کے سامنے سب سے بڑا کام اس علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنا ہے جس کے لیے ایک اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں