’دو مزید بلوچ سیاسی کارکن لاپتہ‘

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک ایشیائی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ماہ اپریل کے دوران دو مزید بلوچ قومپرست کارکنان کو گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption بلوچستان کے جئی قوم پرست رہنما’لا پتہ‘ ہوئے ہیں

ایشین ہیومن رائیٹس کمیشن نامی تنظیم کے مطابق بلوچ نینشل مومونٹ یعنی بی این ایم کے ایک سینیئر رکن محبوب علی واڈیلا کو دو اپریل کو کراچی سے گوادر پبلک ٹراسپورٹ میں سفر کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جبکہ بلوچ نیشنل فرنٹ کے رکن میر بحیر بنگلزئی کو یکم اپریل کو کوئٹہ کے عسکری پارک سے گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کےمطابق دونوں لاپتہ سیاسی کارکنان کے ورثاء نے انہیں بتایا ہے کہ کراچی ماڑیپور تھانہ اور کوئٹہ تھانہ کی پولیس نے دونوں کارکنان کے اغوا کی رپورٹ یعنی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا ہے۔

بلوچ قوم پرست کارکن محبوب علی کی گرفتاری کے عینی شاہدین کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی اس رپورٹ میں شامل کی گئی ہے جو بلوچی چینل وش پر نشر کی گئی ہے۔

لاپتہ بلوچ محبوب کے بھائی فیصل بلوچ نے تنظیم کوبتایا ہے کہ ان کے بھائی کراچی میں گردوں کی بیماری کا علاج کروانے آئے تھے اور بلوچستان واپس جا رہے تھے کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے حراست میں لیا جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔ان کا کہنا ہے کہ محبوب کو بعض ادوایات کی ضرورت ہے جو انہیں نہ مل سکیں تو ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

محبوب بلوچ کے بھائی نے شکایت کی ہے کہ ماڑیپور کراچی پولیس تھانے کے عملے نے ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی ہے جبکہ انہوں نے صرف روزنامچے میں شکایت درج کی ہے۔

دوسری جانب محبوب کی والدہ شمیم نے سندھ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان، وزیراعظم اور دیگر حکام کو درخواست لکھی ہے کہ ان کے بیٹے کو بازیاب کروایاجائے۔

میر بحیر بنگلزئی کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ میر بنگلزئی اپریل کی پہلی تاریخ کو اپنی گاڑی میں گھر جا رہے تھے کہ انہیں عسکری پارک کوئٹہ کے قریب باوردی پولیس اہلکار نے روکا اور دوسری ڈبل کیبن گاڑی میں سوار سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

تنظیم کے مطابق کوئٹہ پولیس بنگلزئی کے ورثاء کی رپورٹ درج نہیں کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ حکومت پاکستان نے لاپتہ افراد کےبارے میں ایک تین رکنی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق جج کریں گے جبکہ ہائی کورٹ کے دو سابق جج اس کمیشن کے ممبران ہونگے۔

اسی بارے میں