’غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ روکیں‘: عدالت

لاہور ہائی کورٹ نے بجلی فراہم کرنے والے ادارے پیپکو کو بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کرنے سے روک دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ وہ شیڈول عدالت میں پیش کیا جائے جس کے تحت ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

  لاہور ہائی کورٹ
Image caption لاہور ہائی کورٹ

ہائی کورٹ نے یہ حکم ایک شہری امتیاز رشید قریشی کی اس درخواست پر دیا جس میں ملک میں ہونے والی طویل ترین لوڈشیڈنگ کو چیلنج کیا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں درخواست کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال سماعت کر رہے ہیں اور اس پر مزید کارروائی اب اٹھارہ مئی کو ہوگی۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار عبادالحق نے بتایا ہے کہ درخواست گزار کی طرف سے بیرسٹر فاروق حسن نے دلائل دیے اور یہ موقف اختیار کیا کہ ملک بھر میں اس وقت بارہ سے اٹھارہ گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے اور اسی وجہ سے کوئی ایسے دن جب مختلف شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے نہ کیے جاتے ہوں۔

وکیل کے مطابق لوڈشیڈنگ کے باعث فیکڑیاں بند ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ عام آدمی کے معمولات زندگی بھی بڑی طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بیرسٹر فاروق حسن نے مزید کہا کہ ایک طرف تو یہ کہا جارہا تھا کہ اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار نو تک لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی لیکن صورت حال یہہے کہ اب اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ لودشیدنگ بھی ہورہی ہے جس سے شہری نفسیاتی دباؤ کا شکار ہورہے ہیں

درخواست گزار کے وکیل نے آئین کے آرٹیکل نو کا حوالہ دیا اور کہا کہ لوگوں کو بینادی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور بجلی بھی بینادی سہولتوں میں سے ایک ہے لیکن حکومت شہریوں کو اس بینادی سہولت سے محروم رکھا ہوا ہے۔ بیرسٹر فاروق حسن نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ طویل لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیں۔ وکیل نے استدعا کی کہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے پیپکو کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کرنے سے روکا جائے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ وفاقی وزیر بجلی اور پانی راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے کیونکہ بقول ان کے موکل نے لوڈشیڈنگ کے خلاف گزشتہ برس جو درخواست دائر کی تھی اس پر یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار نو تک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

بیرسٹر فاروق کا کہنا کہ وفاقی وزیر راجہ پرویز مشرف نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے جو بیان دیا وہ عدالت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے اور یہ بیان توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔