جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ میں چیلنج

قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم میں اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے لیے بنائے گئےجوڈیشل کمیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption درخواست میں اس کمیشن کے قیام کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے

پیر کو دائر کردہ اس درخواست میں وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔

ضلعی بار راولپنڈی کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے لیے بنایا جانے والا کمیشن آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے اس کے علاوہ اس کمیشن کی تشکیل آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق سے بھی متصادم ہے۔

وکلاء کا اٹھارہویں ترمیم پر اعتراض

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں کرسکتی اور سپریم کورٹ یہ سمجھے کہ مقننہ اور انتظامیہ میں سے کوئی ادارہ آئین میں دیے جانے والے اختیارات سے تجاوز کرتا ہے تو عدالت کو اُسے روکنے کا اختیار ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ تمام ادارے آئین میں دیے گئے اختیارات سے تجاوز نہیں کریں گے۔درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگرچہ عدلیہ کو آئین سازی کا اختیار نہیں ہے لیکن اُسے آئین کی تشریح کا اختیار ضرور ہے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزار ملک کا کہنا ہے کہ درخواست میں وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کو جوڈیشل کمیشن میں شامل کرنے کو عدلیہ کی آزادی میں مداخلت قرار دیا ہے۔

اس سے قبل اکرم شیخ ایڈووکیٹ کی طرف سے ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں ججوں کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن میں ارکان پارلیمنٹ کی شمولیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست میں اس کمیشن کے قیام کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ اٹھارویں ترمیم میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کی اس شق کو کالعدم قرار دے۔

اسی بارے میں