بینظیر رپورٹ: ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا آغاز

حکومت پاکستان نے آٹھ ایسے اعلٰی سرکاری اہلکاروں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کرکے افسر بکار خاص بنا دیا ہے جن کا سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل پر اقوام متحدہ کی رپورٹ میں نام لیا گیا تھا۔

فائل فوٹو، بینظر بھٹو
Image caption بینظیر بھٹو کو دسمبر دو ہزار سات میں راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر خود کش حملے میں ہلا ک کر دیا گیا تھا

پیر کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزمان کائرہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں جن افسران کا نام کسی بھی حوالے سے لیا گیا تھا ان کو او ایس ڈی یا افسر بکار خاص بنا دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وزرات ِداخلہ کی تحقیقاتی ٹیم کے کہنے پر جن افسران کو او ایس ڈی بنایا گیا ہے ان کے نام ایگزٹ کنڑول لسٹ یا ای سی ایل میں بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔

بینظر قتل: ایجنسیوں کا رول ’مشکوک‘ تھا

ایک سوال کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں رپورٹ میں اس وقت کے آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے افسران کا نام بھی آئے ہیں تو کیا ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، اس پر وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ’ جن جن کے نام رپورٹ میں شامل ہیں اس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم تفتیش کر رہی ہے اور جو بھی ذمہ دار ہوا اور جس کی طرف بھی اشارہ گیا اس کے خلاف یقیناً کارروائی ہو گی۔‘

جن افسران کو او ایس ڈی بنایا گیا ہے ان میں راولپنڈی کے سابقِ سٹی پولیس افیسر سعود عزیز، سابقِ ڈسٹرکٹ کوارڈینٹر افسرعرفان الہیٰ، سابق ایڈیشنل انسپکڑ جنرل پولیس راولپنڈی چوہدری عبدالمجید، سپرنٹنڈنٹ پولیس اشفاق انور، سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشنز یاسین فاروق‘ ایس پی خرم شہزاد اور ڈائریکڑ جنرل آف سول ڈیفنس بریگیڈئیر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ کا کنٹریکٹ منسوخ کیا گیا۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ ابھی سرکاری طور پر افسران کو او ایس ڈی بنانے کا نوٹیفیکشن جاری نہیں ہوا ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے حالات و حقائق جاننے والے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے رپورٹ منظر عام پر لاتے وقت کہا تھا کہ کسی شحص یا ادارے کو مجرم ٹھہرانا کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا لیکن یہ کام پاکستانی حکومت کا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ واران اور منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بینظیر بھٹو کی سکیورٹی پر مامور پیپلز پارٹی کے کچھ عہدیداروں کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو موجودہ حکومت میں اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔ حکومت نے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں