کراچی: درخت کاٹنے پر پابندی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں درخت کاٹنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور عدالت نے درخت کاٹنے کو جرم قرار دیا ہے۔

درخت
Image caption عدالت نےدرختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کردی

سندھ ہائی کورٹ میں قاضی علی اطہر نامی وکیل نے کراچی میں درختوں کی کٹائی پر پابندی کے لیے درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ شہر سے بے دریغ درختوں کی کٹائی کی جارہی ہے، شہری حکومت کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے لاکھوں درخت لگائے ہیں درحقیقت انہوں نے صرف پودے لگائے ہیں اور اس کے بدلے قدیم سایہ دار درخت کاٹے جا رہے ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق مینٹیننس آف ٹری اور پبلک پارکس آرڈیننس دو ہزار دو کے سیکشن نو کے مطابق درخت کاٹنا جرم ہے، اس کے علاوہ سندھ لوکل باڈیز آرڈیننس دو ہزار ایک میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ کوئی بھی اتھارٹی درخت کی کٹائی نہیں کرسکتی ہے اگر کٹائی انتہائی اہم ہو تو پھر اس کا طریقہ کار واضح کردیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی موقف تھا کہ شہر سے کوئی ساڑھے پانچ ہزار درخت کاٹ دییے گئے ہیں ’درخت قدرتی تحفہ ہیں، ان کی کٹائی کے انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔‘

Image caption شہر میں قدیم سایہ دار درخت کاٹے جاتے رہے ہیں

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مشیر عالم اور جسٹس طفیل ایچ ابراہیم کی عدالت نے منگل کو اس درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کردی۔

گزشتہ ہفتہ سندھ حکومت نے نیم کے درخت کو صوبے کا قومی درخت قرار دے دیا اور اس سال ساڑھے آٹھ ملین درخت لگانے کا اعلان کیا ہے۔

صدر زرداری نے ہدایت جاری کی ہیں کہ کراچی میں فی فرد کے حساب سے فی درخت لگایا جائے جو بین الاقوامی معیار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر میں اس وقت صرف تین ملین درخت موجود ہیں۔

حکومت نے ملیر ندی کی پانچ ہزار ایکڑ ایراضی پر مشتمل پارک لگانےکا منصوبہ بنایا ہے۔

کراچی شہر کو جہاں صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ درپیش ہے وہاں گاڑیوں اور صنعتوں سے نکلنے والے دھویں سے آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، ماہرین نے اس کی شدت کم کرنے کے لیے حکومت کو زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی تجویز دی ہے۔

ایک ماہ قبل سپریم کورٹ نے صنعتی علاقوں میں صنعتی فضلا نہ پھینکنے کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعد ہائی کورٹ درختوں پر کٹائی پر پابندی عائد کی ہے۔