’ترمیم پرعمل کے لیےکمیشن کی تجویز‘

پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر قانون اور آئینی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم پر عمل نہ ہوا تو اس کے منفی نتائج نتائج نکلیں گے۔

سینٹر رضا ربانی کراچی پریس کلب
Image caption سینٹر رضا ربانی کراچی پریس کل

کراچی میں بدھ کو پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے بتایا کہ اٹھارہویں ترمیم پر عمل درآمد کے لیے انہوں نے گزشتہ دن وزیراعظم سے ملاقات کی تھی، جس میں ان ترامیم پر عمل کے لیے کمیشن کے قیام پر ابتدائی بات چیت ہوئی ہے۔

’’ اگر ان ترامیم پر عمل درآمد نہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے، کیونکہ اس سے جو امیدیں پیدا ہوئی ہیں یا وابستہ کی گئی ہیں اس میں ناکامی خوش آئند نہیں ہوگی“۔

سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم میں عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھا گیا ہے، ججوں کی تعیناتی کے طریقے کار کو وسیع کرکے وزیراعظم سے یہ اختیار لیکر یہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا گیا ہے۔

’ جوڈیشل کمیشن جس میں اکثریت ججوں کی ہے اپنی سفارشات پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کرے گی، جو اب وزیراعظم کی جگہ کام کر رہی ہے ان کو چودہ دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا اگر انہیں کسی نام پر اختلاف ہے تو آٹھ میں سے چھ ممبران کو تائید ضروری ہے یعنی اگر حکومت کسی کو نامزد کرنا چاہے تو اس وقت نہیں کرسکتی جب تک اپوزیشن کے دو ممبران کی حمایت حاصل نہ ہو‘۔

سینیٹر رضا ربانی سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ ترمیم آنے والے وقت میں کسی آمر کا راستہ روک سکتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ایک دستاویز کسی آمر کا راستہ نہیں روک سکتی، آمریت کا راستہ صرف اور صرف پاکستان کے غریب اور محنت کش، سیاسی عمل اور مضبوط ادارے ہی روک سکتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات کے بارے میں سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے ایکٹ میں یہ شق موجود ہے اس لیے اسے شامل نہیں کیا گیا۔

ان ترامیم پر فوری عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے قومی مالیاتی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم ہونی ہے اور اس سال محکموں کا بجٹ بن چکا ہے، تیسرا یہ ایک انتظامی معاملہ ہے یعنی یہ محکمے اس وقت وفاق کے ماتحت یعنی اس کے ملازم وفاقی حکومت کے ملازم ہیں۔ اگر یہ محکمے صوبوں میں ضم ہوتے ہیں تو ان کا کیا طریقہ کار ہوناچاہیئے ان تمام کو مد نظر رکھتے ہوئے دو ہزار گیارہ سے ان پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں