بینظیر قتل: مزید تین ملزمان شاملِ تفتیش

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) کی جانب سے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات میں تین مزید ملزمان کو شامل کرنے کی درخواست منظور کرلی ہے۔

فائل فوٹو
Image caption بینظیر بھٹو کو سال دو ہزار سات میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک خودکش حملے میں قتل کیا گیا تھا

عدالت نے تفتیشی افسران سے کہا کہ بینظیر بھٹو قتل کی تحقیقات کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ آچکی ہے لہذا اس مقدمے کا چالان فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ اس مقدمے کو نمٹایا جاسکے۔

بدھ کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کی تو سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے میں ایف آئی اے تین ملزمان کو شامل تفتیش کرنا چاہتا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ سرکاری وکیل کے بقول ان ملزمان میں سعید عرب، محمد شریف اور گُل روز شامل ہیں اور یہ تینوں ملزمان کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کی بس پر ہونے والے خودکش حملے کے مقدمے میں گرفتار ہیں اور اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

عدالت کے جج ملک اکرم اعوان کا کہنا تھا کہ چھ ماہ سے اس مقدمے کی کارروائی تعطل کا شکار ہے اور اب تو اقوام متحدہ کی رپورٹ بھی آچکی ہے لہذا جلد از جلد اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان ملزمان کو ابھی شامل تفتیش کرنا ہے لہذا اس کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اب وہ مزید وقت نہیں دے سکتے۔

عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں گرفتار کیے گئے پانچ ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور چھ ماہ سے اس مقدمے میں عدالتی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہ جانے کس جُرم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں گرفتار ہونے پانچ ملزمان کے بیانات بھی قلمبند کرنے ہیں۔ ان ملزمان میں محمد رفاقت، حسنین گُل، شیرباز، عبدالرشید اور اعتزاز شاہ شامل ہیں۔

اس مقدمے میں پنجاب حکومت کے وکیل سردار اسحاق کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے اس مقدمے کی سماعت میں تاخیر کا فائدہ ملزمان کو ہی پہنچے گا۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن افراد کو مزید شامل تفتیش کیا جا رہا ہے اگر اُن کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہ آئے تو پھر پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کو دوسال سے زائد کا عرصہ گُزر چکا ہےاور اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے اور متعدد افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے جاچکے ہیں۔

سردار اسحاق کا کہنا تھا کہ ان افراد میں وہ مجسٹریٹ صاحبان بھی شامل ہیں جنہوں نے ملزمان کے اقبالی بیانات بھی قلمبند کیے تھے۔

عدالت نے تفتیشی افسران سے کہا کہ وہ جلد از جلد اس مقدمے کا چالان پیش کریں۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت پانچ مئی تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں