سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعض حصوں کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption ٹھارہویں ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے: اعتزاز احسن

جسٹس ناصر الملک کی زیرسربراہی بننے والا یہ بینچ ان متفرق آئینی درخواستوں کی سماعت آئندہ بدھ اٹھائیس اپریل سے شروع کرے گا۔

صدر آصف زرداری نے رواں ماہ کی انیس تاریخ کو ایک خصوصی تقریب میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی اٹھاروہویں آئینی ترمیم کے بل پر دستخط کر دیے تھے جس کے بعد یہ ترمیم آئین کا حصہ بن گئی تھی۔

جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ میں چیلنج

وکلا کا اٹھارہویں ترمیم پر اعتراض

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایش اور بعض دیگر اداروں اور افراد کی جانب سے دائر کردہ ان پانچ مختلف درخواستوں میں اٹھارہویں آئینی ترمیم میں اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے نئے طریقہ کار اور بعض دیگر نکات کو آئین سے خارج قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ کئی روز سے اٹھارہویں ترمیم سے متعلق ریاست کے تین ستون سمجھے جانے والے اداروں یعنی عدلیہ، مقننہ اور حکومت کے درمیان تناؤ اور کشیدگی پائے جانے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔

Image caption وکلاء کا کہنا تھا کہ ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے کمیشن بنانے کا فیصلہ واپس نہ لینے پر احتجاج کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے

گزشتہ منگل کو سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل رہنما اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کا اختیار ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں ہے البتہ وہ اس ضمن میں کوئی تجویز ضرور دے سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل اور اٹھارویں ترمیم میں اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے لیے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والے وکیل اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ عدالت عظمی نہ صرف اٹھارویں ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے بلکہ اُس کے خلاف حکم امتناعی بھی جاری کرسکتی ہے۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم میں اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے جوڈشیل کمیشن کی جو شق رکھی گئی ہے وہ بنیادی انسانی حقوق کے متصادم ہے۔

اسی بارے میں