بینظیر کمیشن: پچیس لاکھ ڈالر لاگت آئی

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے حسین ہارون نے واضح کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے تحقیقاتی کمیشن پر پچیس لاکھ امریکی ڈالر لاگت آئی ہے۔

فائل فوٹو، بینظیر بھٹو
Image caption بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے یاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد خود کش حملے میں قتل کر دیا گیا تھا

کراچی میں پیر کو جاری کیے گئے ایک اعلامیے میں انہوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے اس کمیشن کے لیے چار ملین ڈالر کا تخمینہ لگایا تھا مگر کمیشن کی اختتام پر ابتدائی اندازے کے مطابق یہ خرچہ اڑھائی ملین ڈالر تک ہے۔

حسین ہارون کے مطابق کمیشن کے لیے امریکہ، عرب امارات، برطانیہ اور ترکی نے ڈیڑھ ملین ڈالر کی معاونت کی تھی، جب کہ پاکستان نے ایک ملین ڈالر سے تھوڑی زیادہ رقم فراہم کی ہے جو پاکستانی کرنسی میں دس کروڑ روپے بنتی ہے۔

بینظیر بھٹو قتل: یو این تحقیقات میں کب کیا ہوا

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف چند جماعتوں کے رہنماوں نے اقوام متحدہ کے کمیشن کی رپورٹ کو بے مقصد اور کروڑوں روپے کا ضیاع قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں کچھ نیا نہیں ہے۔ پاکستانی میڈیا میں ابھی اس رپورٹ کے مختلف پہلووں اور اس میں جن افراد کی غفلت کی نشاندہی کی گئی تھی ان کی گرفتاری کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی حکومت کی درخواست پر سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے کمیشن نے اقوام متحدہ میں چلی کے سفیر ہیرالڈو منوز کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اس کمیشن نے رواں سال فروری کے آخری ہفتے میں پاکستان کا تین روزہ آخری دورہ مکمل کیا تھا۔ اس دورے میں کمیشن کے سربراہ اور اراکین نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سینیئر حکومتی اہلکاروں اور سول سوسائٹی کے اراکین سے ملاقاتیں کیں۔

اس کے علاوہ اس کمیشن کے سربراہ نے پاکستان کے تین دورے کیے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کا عملہ تحقیقاتی عمل شروع ہونے کے پہلے دن سے ہی پاکستان میں موجود تھا۔

یو این کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پندرہ اپریل کو جاری ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ بینظیر بھٹو کو دسمبر دو ہزار سات میں راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد خود کش حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں