حبیب بینک کے سابق صدر کو عمر قید

کراچی کی احتساب عدالت نے وزیراعظم یلو کیب ٹیکسی اسکیم میں بدعنوانی کا الزام ثابت ہونے پر حبیب بینک کے سابق نائب صدر پیر دیدار جان سرہندی کو چودہ سال قید اور سولہ کروڑ کے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

Image caption سندھ میں این آر او مسترد ہونے کے بعد بحال کئے گئے بدعنوانی کے مقدمے میں یہ پہلی سزا ہے

احتساب عدالت کے انتظامی جج ارشد نور خان نے اسی مقدمے میں حبیب بینک کے سابق صدر یونس ڈالیا سمیت تین افسران کو بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالت نے پیر دیدار جان سرہندی کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دیتے ہوئے ان کی سزا گرفتاری کے دن سے شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے اسپیشل پراسیکیوٹر عارف خان کے مطابق حبیب بینک کے سابق صدر یونس ڈالیا، نائب صدر پیر دیدار سرہندی، صابر حسین اور گدام کے انچارج انوار حیدر نے مل بھگت کرکے باقیداروں سے قرضے کی وصولی کے لیے تحویل میں لی گئیں ستاون یلو کیب گاڑیاں قرضہ وصول کیئے بغیر ان کے حوالے کردیں جس کے نتیجے میں حکومت کو چھ کروڑ رپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔

عدالت نے پیر کو اپنے فیصلے میں بتایا کہ یہ ثابت ہوا ہے کہ پیر دیدار کے دستخط سے یہ گاڑیاں چھوڑی گئیں تھیں جبکہ دیگر ملزم بے قصور ہیں، سزا سنانے کے بعد پولیس نے عدالت میں موجود پیر دیدار سرہندی کو حراست میں لے لیا۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق یہ مقدمہ انیس سو چھیانوے کو ایف آئی اے بینکنگ کورٹ میں دائر کیا گیا تھا جہاں سے سنہ دو ہزار تین کو احتساب عدالت میں منتقل کیا گیا مگر اس عرصے میں یونس ڈالیا اور پیر دیدار جان سرہندی سمیت تمام ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔

پرویز مشرف حکومت نے جب قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا تو اس میں یہ مقدمے بھی ختم ہوگیا مگر سپریم کورٹ کی جانب سے قومی مفاہمتی آرڈیننس کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے کے بعد یہ مقدمہ پھر سے بحال ہوگیا۔

سندھ میں این آر او مسترد ہونے کے بعد بحال کئے گئے بدعنوانی کے مقدمے میں یہ پہلی سزا ہے۔

واضح کے میاں نواز شریف کے دور حکومت میں بیروگاری کے خاتمے کے لیے یلو کیب اسکیم شروع کی گئی تھی، جس کے تحت نوجوانوں کی بینک قسطوں میں یہ گاڑیاں فراہم کیا کرتی تھیں۔

اسی بارے میں