’جو وعدے کیے ہیں وہ تو پورے کرنے ہیں‘

وزیراعظم پاکستان کے مشیرِ خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی روشنی میں، پاکستان میں بجلی کی قیمت میں مزید چھ فیصد اضافہ ہونا ہے لیکن یہ اضافہ کیسے اور کب کیا جائے اس بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر شیخ نے چار روزہ امریکی دورے میں امریکی، یورپی اور ایشیائی وزرائے مالیات اور اہلکاروں اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد، میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ورلڈ بینک پاکستان کے لیے ایک سو دس ملین ڈالر کی ابتدائی رقم سے ایک نیا فنڈ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں کئی ممالک پاکستان کی امداد کریں گے۔

یہ نیا فنڈ بنیادی طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں، صوبہ خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان کے سب سے زیادہ پسماندہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے قائم کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جاوید سومرو کے مطابق وفاقی مشیر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا پروگرام درست سمت میں چل رہا ہے اور آئی ایم ایف چودہ مئی کو ایک ریویو کے بعد، پاکستان کو قرضے کی ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کر دے گا۔

پاکستان میں توانائی کے بحران اور حکومت پاکستان کے اقدامات سے متعلق پوچھے گئے متعدد سوالات کے جوابات میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے بجلی بچانے اور ترسیل بہتر بنانے کے جن حالیہ اقدامات کا اعلان کیا ہے ان کے ذریعے بجلی کے بحران میں تیس سے چالیس فیصد تک کمی کی جا سکے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ملک میں وسط مدتی اور طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہوگی جن میں مزید ہائڈرو پاور پلانٹس کی تعمیر اور کوئلے کو استعمال کرنے کے اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے گزشتہ دو برس اقتصادی لحاظ سے انتہائی خراب رہے ہیں جن کی وجوہات سب جانتے ہیں، اس لیے حکومت کو آئی ایم ایف سے مدد حاصل کرنا پڑی اور قرضہ لیا گیا۔ ان کے بقول اب جو وعدے کیے گئے ہیں ان کو پورا تو کرنا پڑتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت پاکستان کو ٹیکس وصولیوں کا نظام بہتر بنانے، ویلیو ایڈیڈ ٹیکس یا وی اے ٹی نافذ کرنے اور بجلی کے نرخوں میں چوبیس فیصد اضافہ کرنے سمیت کئی ادیگر اقدامات کرنا تھے۔

اس سلسلے میں پاکستان کی حکومت نے دو مرحلوں میں بجلی کے نرخوں میں اٹھارہ فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ ابھی چھ فیصد اضافہ ہونا باقی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی تقریباً ندارد ہے اور مختلف علاقوں میں چھ سے چودہ گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ معمول بن گئی ہے۔ اس وقت ملک میں بجلی کا شارٹ فال چار ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔

ڈاکٹر شیخ نے کہا کہ چار دن کے امریکی دورے میں ان کی عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں اور امریکہ چین، سعودی عرب، ایران اور افغانستان کے وزرائے خزانہ سمیت متعدد رہنماؤں سے چالیس ملاقاتیں ہوئی ہیں اور سب کو اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستان انتہائی مشکل اقتصادی اور سماجی حالات سے گزر رہا ہے۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ عالمی اداروں کا پاکستان کی جانب سے اقتصادی استحکام کے لیے کئے گئے اقدامات پر اعتماد بڑھ رہا ہے اور پاکستان نے ان ممالک کے ساتھ ملک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

اسی بارے میں