کارساز دھماکے کی جگہ یادگار بنے گی

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کے دھماکہ کی جگہ پر یادگار کی تعمیر کی اجازت حاصل کرلی ہے۔

اٹھارہ اکتوبر کو جب سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کے بعد کراچی پہنچی تھیں تو ان کے استقبالیہ جلوس میں دو بم دھماکے کیے گئے تھے جن میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک اور تین سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ نے شاہراہ فیصل پر کارساز کے مقام پر ہلاک ہونے والوں کی یاد میں یادگار تعمیر کرنے کے لیے شہری حکومت سے اجازت طلب کی تھی، جسے منظور کرلیا گیا ہے۔

سندھ کے وزیراعلیٰ کے معاون وقار مہدی کا کہنا ہے کہ یہ یادگار پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان تیر سے مشابہت رکھتی ہوگی جس کی اونچائی باون فٹ ہوگی، کیونکہ اس دھماکے کے وقت بینظیر بھٹو کی عمر باون سال تھی۔

ان کے مطابق یادگار کی تعمیر اگلے ماہ سے شروع کی ہو جائے گی اور اٹھارہ اکتوبر سے پہلے مکمل کی جائے گی۔ مینار نما یادگار کے چاروں اطراف میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کے نام درج کیے جائیں گے۔

اٹھارہ اکتوبرکے واقعے کا مقدمہ بینظیر بھٹو کی درخواست کی روشنی میں درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں ان کے اس خط کا حوالہ بھی موجود ہے جو انہوں نے وطن واپسی سے قبل اس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو لکھا تھا اور شبہ ظاہر کیا تھا کہ وطن واپسی پر بعض شخصیات انہیں قتل کرانا چاہتی ہیں۔

مقامی میڈیا میں پیپلز پارٹی کے ذرائع سے یہ خبریں شائع اور نشر ہوتی رہی ہیں کہ پرویز مشرف کو بھیجے گئے خط میں آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ، آئی بی کے ایک سابق سربراہ، قومی احتساب بیورو کے ایک اہلکار اور مسلم لیگ ق کے ایک رہنما کے نام شامل ہیں۔

بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے بھی اٹھارہ اکتوبر واقعے کا مشاہدہ کیا تھا اور پولیس افسران کے بیان رکارڈ کیے تھے۔

اسی بارے میں