پیمرا سے بی بی سی مایوس

Image caption پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے کہنے پر بی بی سی کے تمام پارٹنر چینلز نے تحریری اجازت کے لیے تمام ضروری کاغذات پچھلے سال اکتوبر میں پیمرا کے دفتر جمع کرا دیے تھے

بی بی سی کی عالمی سروس نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پاکستان میں اس کے چونتیس میں سے چوبیس پارٹنر سٹیشنز کو اردو سروس کے نیوز بلیٹن نشر کرنے سے روک دیا ہے۔

بی بی سی کے بلیٹن پر پابندی

ایک بیان میں بی بی سی نے کہا ہے کہ اسے یقین ہے کہ جن چوبیس پارٹنر سٹیشنز کو اردو سروس کے نیوز بلیٹن نشر کرنے سے روکا گیا ہے انھوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں پیمرا کو درکار تمام ضروری کاغذی کارروائی مکمل کی تھی۔

بی بی سی نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارٹنر سٹیشنز کو اردو کے نیوز بلیٹن نشر کرنے کی اجازت دے تاکہ پاکستان میں سامعین کو بی بی سی کی غیر جانبدار اور ادارتی اعتبار سے آزادانہ خبروں تک رسائی حاصل ہو سکے۔

بی بی سی نے تشویش ظاہر کی ہے کہ پیمرا کے فیصلے سے پاکستان میں وہ لاکھوں سامعین سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جو غیر جانبدار خبروں اور اطلاعات کے لیے بی بی بی سی کا رخ کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی صورتِ حال کا بغور جائزہ لیتی رہے گی اور اردو بلیٹنز کی نشریات واپس لانے کے لیے پارٹنر سٹیشنز کی حمایت جاری رکھے گی۔

گزشتہ روز پاکستان کے وزیرِاطلاعات قمر زمان کائرہ نے بی بی سی اردو سروس کے چونتیس میں سے چوبیس ایف ایم پارٹنر چینلز کو اردو سروس کے پانچ منٹ دورانیے کے نیوز بلیٹن نشر کرنے کی تحریری اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان پارٹنر سٹیشنز کو پچھلے مہینے کی ستائیس تاریخ کو یہ کہہ کر بی بی سی کی خبریں نشر کرنے سے روکا گیا تھا کہ کاغذی کارروائی کے مکمل ہونے تک وہ بی بی سی کی خبریں نشرکرنا بند کر دیں۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے کہنے پر بی بی سی کے تمام پارٹنر چینلز نے تحریری اجازت کے لیے تمام ضروری کاغذات پچھلے سال اکتوبر میں پیمرا کے دفتر جمع کرا دیے تھے۔ لیکن بی بی سی کے نمائندے نے جب بھی پیمرا سے اس بارے میں استفسار کیا یہی جواب ملا کہ ’آپ کی خبریں چل رہی ہیں، تحریری اجازت سے کیا فرق پڑتا ہے‘۔

پچھلے ماہ ستائیس مارچ کو اچانک بی بی سی کے ان چوبیس پارٹنر چینلز سے فوری طور پر بی بی سی کی خبریں بند کرنے کے لیے کہا گیا۔

جب پیمرا سے رابطہ کیا گیا تو بی بی سی کو بتایا گیا کہ اب تحریری اجازت کے بغیر کسی ایف ایم چینل کو بی بی سی کی خبریں نہیں چلانے دی جائیں گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ جیسے ہی وفاقی وزیر برائے اطلاعات کو وقت ملے گا وہ اس معاملے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔

تاہم کئی روز تک وزیر اطلاعات کی مصروفیت کو وجہ بنا کر بی بی سی کے نمائندے کو ٹالا جاتا رہا۔

آخرکار پچھلے جمعہ کو بی بی سی کے نمائندے سے اسلام آباد آنے کو کہا گیا جہاں منگل کی دوپہر اسے بتایا گیا کہ اب کسی اور ایف ایم چینل کو بی بی سی کی خبریں نشر کرنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

پاکستانی ایف ایم چینلز سے بی بی سی اردو سروس کی خبراں کی نشریات پر پہلی مرتبہ پابندی سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں لگائی گئی تھی۔ اس پابندی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ نے بی بی سی کے پارٹنر چینلز کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ بی بی سی کی نشریات پر پابندی غیر قانونی ہے۔

اسی بارے میں