گیلانی منموہن ملاقات جمعرات کو

پاکستان کے دفترِخارجہ سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان بھوٹان کے دارالحکومت تِھیمفو میں جمعرات کو دو طرفہ ملاقات ہوگی۔

دو سطری بیان میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات کے انعقاد کا فیصلہ دونوں ممالک کے سفارتی ذرائع سے طے پایا ہے۔

تِھیمفو میں پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔

تاہم یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بھارت نے پاکستان میں تعینات اپنی ایک سفارتکار پر جاسوسی کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا ہے۔

دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات نومبر سنہ دو ہزار سات میں ممبئی حملوں کے بعد سے سرد مہری کی نظر ہیں اور جامع مذاکرات کا عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔

دو ہفتے قبل بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ جب تک پاکستان ممبئی حملے کے ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا اس وقت تک اس سے بات چیت نہیں ہوگی۔ جبکہ ان کے پاکستانی ہم منصب سید یوسف رضا گیلانی کہتے رہے ہیں کہ پاکستان ممبئی جیسے متعدد حملوں کا سامنا کر چکا ہے اور ہندوستان اور پاکستان کو ممبئی حملوں کا یرغمال نہیں بنے رہنا چاہیے۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق تِھیمفو ملاقات کا تعین بھی عین وقت پر ہوا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس میں کسی بڑی پیش رفت کی امید نہیں اور یہ ملاقات بھی محض فوٹو سیشن ہی ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اچھی بات یہ ہے کہ دونوں ممالک میں اعلیٰ سطح پر رابطوں کا سلسلہ موجود ہے۔

اسی بارے میں