’سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کریں گے‘

سپریم کورٹ کی طرف سے وزیراعظم کے چون افسران کو ترقی دینے کے اقدام کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو حکومت نے من و عن قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے بدھ کی صبح وزیر اعظم کے صوابدیدی اختیارات کے تحت چون افسران کو ترقی دینے کےاقدام کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے شام گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر نہیں کرے گی اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر من وعن عمل درآمد ہوگا۔

اس بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہونے والے افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ مایوس نہ ہوں۔ تاہم اس بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے متاثر ہونے والے سرکاری اہلکار اپنے عہدوں پر بدستور کام کرتے رہیں گے یا نہیں ۔

ان افسران کو ستمبر سنہ دوہزار نو میں وزیر اعظم نے صوابدیدی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ترقیاں دی تھیں۔

گریڈ بائیس میں ترقی پانے والوں میں وزیراعظم کی پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی، سیکرٹری داخلہ قمر زمان، سیکرٹری اطلاعات سہیل منصور،سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان، آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خان اور برسلز میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس بھی شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نےسینیئر سرکاری افسر طارق عزیز الدین کے خط پر ان ترقیوں کا از خود نوٹس لیا تھا۔

اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ گریڈ اکیس کے دو سو اڑسٹھ افسران میں سے چون من پسند افسران کو ترقی دی گئی اور ان ترقیوں میں سنیارٹی کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

عدالت کو بتایاگیا کہ پولیس گروپ میں تینتالیس افسران میں سے نو افسران کو ترقی دی گئی۔ کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ میں چار میں صرف ایک اور ترقی دی گئی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سیکرٹریٹ گروپ میں اکتالیس افسران میں سے صرف دس افسران کو ترقی دی گئی، انکم ٹیکس گروپ میں پچیس افسران میں سے صرف دو افسران کو ترقی دی گئی اس کے علاوہ فارن سروسز کے پانچ افسران کو اگلے گریڈ میں ترقی دی گئی۔ جبکہ اسی طرح دوسرے گروپوں میں بھی سنیارٹی کو نظرانداز کیا گیا۔

اس از خودنوٹس کی سماعت کے دوران حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم نے یہ ترقیاں پسماندہ صوبوں کو بیورکریسی میں مزید نمائندگی دینے کے لیے دی ہیں۔

عدالت نے ترقی پانے والے ان افسران کا موقف جاننے کے لیے اُنہیں نوٹس جاری کیے تھے جن میں سے بائیس افسران خود عدالت میں پیش ہوئے تیرہ افسران نے اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کروائے جبکہ اُنیس افسران مصروفیت کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے تحریری جواب عدالت میں جمع کروایا۔

اسی بارے میں