’بیرونِ عدالت مصالحتی نظام پر کام جاری‘

پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت پوری دنیا میں بیرون عدالت مصالحتی نظام کو فروغ ملا ہے اور پاکستان میں بھی اس نظام کو فروغ دینے کے لیے کام جاری ہے۔

جمعرات کو لاہور میں بیرون عدالت مصالحتی نظام کے موضوع پر ہونے والی ایک قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جج صاحبان کی ایک اعلٰی سطحی کمیٹی قواعد و ضوابط تشکیل دینے کا کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرون عدالت مصالحت کا نظام دنیا بھر میں کامیابی سے فروغ پا رہا ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے مسائل حل کرنے اور تنازعات ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بیرون عدالت مصالحتی نظام ان سماجی طبقات کے لیے انصاف تک رسائی میں اضافہ کرسکتا ہے جو عدالتی نظام سے موثر طور پر مستفید نہیں ہو پاتے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ بعض ممالک کے لیے یہ نظام نیا ہے لیکن ہمارے خطےمیں پنچایت اور جرگے کا نظام صدیوں پرانا ہے لیکن پاکستان میں ریاستی سطح پر اس کی مناسب سرپرستی نہیں کی گئی‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سماجی خرابیوں نے اس نظام پر منفی اثرات مرتب کیے اور یہ بدلتے وقت کےتقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال نہ سکا۔

جسٹس افتخار کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک خاص طور پر ترقی یافتہ جمہوری ممالک نے بیرون عدالت مصالحت کے اس تصور کو اپنایا اور اسے سرکاری اور قانونی حثیت دیکر اپنے اپنے ملک میں فروغ دیا۔ انہوں نے چین، اٹلی اور امریکہ کی مثالیں دیں اور کہا کہ امریکہ میں اسی فیصد تنازعات عدالت سے باہر طے کر لیے جاتے ہیں جبکہ چین میں عدالتی مصالحت کنندہ کا کرداربہت پرانا ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ پاکستان میں اس نظام کو فروغ دینے کے لیے سپریم کورٹ کے جسٹس تصدق جیلانی کی سربراہی میں ایک قومی جوڈیشل کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جس میں چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس کے ایک ایک جج بھی شامل ہیں۔

کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ گیا کہ مصالحتی نظام کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کے علاوہ اس ضمن میں ججوں کی تربیت کا بندوبست بھی کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تنازعات کے حل کے مختلف طریقوں کا فروغ قومی جوڈیشل پالیسی کا ایک اہم ہدف ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدالت سے باہر مصالحتی نظام سے موجودہ عدالتی نظام کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑے گی بلکہ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی سے اس سماجی طبقے کو مدد ملے گی جنہیں موجود عدالتی نظام مناسب طریقے سے انصاف فراہم نہیں کر پاتا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے قرآن مجید کی سورتوں کا حوالہ دیکر کہا کہ نظامِ اسلامی شریعہ اور فلسفہ بھی تنازعات کےحل کے لیے مصالحتی طریقہ کار کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف مدارج میں عدالت سے باہر مصالحت و ثالثی کے طریقہ کار موجود ہیں اور اسے جاننے کے لیے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ نواسی اے کو آڈر دس رول اے ون کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار دو کے ایک آرڈیننس کے تحت ایک لاکھ روپے تک کے ہرجانے کےدعوے اور ان معمولی جرائم میں مصالحت و ثالثی ہوسکتی ہے جن میں سزا تین سال سے کم ہو۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا کہ ضلعی عدالت میں مصالحت اورثالثی کے نظام کے قیام اور اسے قابل عمل بنانے کے لے وکلاء کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس ضمن میں وکلاء سے تجاویز بھی طلب کیں۔

لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہاکہ صوبے کےعوام تک انصاف کی فوری اور آسان فراہمی کے لیے لاہور ہائی کورٹ بیرون عدالت مصالحت کےنظام کے قیام اور کامیابی کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔

کانفرنس کے پہلے روز سپریم کورٹ کے جسٹس تصدیق حسین جیلانی،سابق چیف جسٹس سعیدالزمان صدیقی اور ماہر قانون مس نوین مرچنٹ نے بھی خطاب کیا۔جمعہ کو چاروں صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان اس موضوع پر اظہار خیال کریں گے۔

اسی بارے میں