کراچی: ٹارگٹ کلنگ پھر شروع

کراچی میں ایک مرتبہ پھر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو گھات لگا کر قتل کرنے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ بدھ کی رات کو چار کارکنوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور انسانی حقوق کمیشن کے مطابق گزشتہ چار ماہ میں انسٹھ سیاسی کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔

گولیاں

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن شکیل اسحاق کو بدھ کی رات اورنگی ٹاون کے علاقے میں ان کے گھر کے قریب ہلاک کیا گیا اور عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما توصیف کاکڑ تیسر ٹاؤن کے علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن کاشان پاپوش نگر میں کار واش کی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی جس میں وہ ہلاک اور ان کے ساتھ موجود بابر نامی شخص زخمی ہوگئے ۔ ٹارگٹ کلنگ کا چوتھا واقعہ مبینہ ٹاؤن کی حدود میں پیش آیا جہاں مسکان چوک پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس میں ایم کیو ایم حقیقی کے سابق کارکن اظہر وارث خان ہلاک ہوگئے۔

چاروں واقعات میں حملہ آور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، شہر میں گزشتہ کئی ماہ سے ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار ماہ میں انسٹھ سیاسی کارکنوں کو گھات لگا کر ہلاک کیا گیا ہے جن میں ایم کیو ایم حقیقی، متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن شامل ہیں۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگز میں سیاسی عمل دخل بھی موجود ہے جسے سیاسی طور پر حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے مطابق ’ان واقعات میں سیاسی عزائم ہیں مگر یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے، قانون کے مطابق پولیس ایف آئی آر درج کرتی ہے جہاں ملزم نامزد نہیں کیے جاتے وہاں پولیس اپنی اطلاعات کے مطابق داخل کردیتی ہے ’انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ٹارگٹ کلنگز کے واقعات میں جن ملزمان پہچانتے ہیں ہمت کرکے ان کے نام درج کرائیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جن کے پیارے بھائی والد، بیٹے مارے جاتے ہیں وہ بھی ڈر کے مارے نام دینے کے لیے تیار نہیں۔‘

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق رواں سال جنوری میں ٹارگٹ کلنگز کے واقعات میں تیزی آئی تھی، جس کے بعد صوبائی حکومت نے رینجرز کو پورے کراچی میں بغیر وارنٹ چھاپوں اور حراست میں رکھنے کے اختیارات دیے تھے، انسانی حقوق کمیشن کے رہنما اقبال حیدر کا کہنا ہے کہ اس سے صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔

’رینجرز نے لاقانونیت ختم کرنے میں کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کیا ہے اور نہ ہی پولیس کی کارکردگی تسلی بخش ہے تین جماعتوں کے کارکن اکثریت سے قتل ہو رہے ہیں اور تینوں جماعتیں حکومت میں بھی شامل ہیں، جب حکمران جماعتوں کے کارکنوں کو تحفظ نہیں ہے تو عام کارکن اور شہری کو کون تحفظ فراہم کرے گا۔‘

صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذواالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگز حکومت کے ساتھ شہریوں کے لیے بھی چیلینج ہے۔

’رینجرز کو با اختیار بنانے سے صورتحال میں بہتری آئی ہے، رینجرز نے حقیقی کے کارکنوں کے قتل میں ملوث لوگ گرفتار کیے ہیں پہلے رپورٹ ہی داخل نہیں ہوتی تھی مگر اب کم سے کم ہم ملزم پکڑ لیتے ہیں دیگر واقعات کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے جرم کرنے والا سڑکوں پر نہیں گھومتا وہ چھپ جاتا ہے۔`

انہوں نے ٹارگٹ کلنگز کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے آپریشن کے امکان کو رد کیا اور کہا ہے کہ یہ واقعات کسی ایک علاقے تک محدود نہیں مختلف علاقوں میں ہو رہے ہیں جہاں آپریشن ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں