مہمند: شدت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی

Image caption مہمند میں پھر کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پچھلے چند دنوں سے مسلح شدت پسندوں کے حملوں میں ایک بار پھر شدت دیکھنے میں آرہی ہے اور تازہ واقعات میں لڑکیوں کے ایک اور سرکاری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا گیا ہے جبکہ گزشتہ روز اغواء ہونے والے دو اساتذہ اور ایک سرکاری اہلکار بدستور لاپتہ ہیں۔

مہمند ایجنسی کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات مسلح عسکریت پسندوں نے تحصیل انبار کے علاقے موسی کور میں لڑکیوں کے ایک سرکاری پرائمری سکول کو بموں سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دو کمروں پر مشتمل سکول کی عمارت مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔

ادھر مہمند ایجنسی کے مختلف علاقوں اور ضلع پشاور کی حدود سے اغواء ہونے والے دو اساتذہ اور پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار بدستور لاپتہ ہیں۔

منگل کو پولیٹکل ایجنٹ مہمند ایجنسی کے دفتر میں کام کرنے والے ایک اکاونٹینٹ شاہ محمود کو مسلح افراد نے ضلع پشاور کے علاقے متھرا سے اغواء کرلیا تھا۔ اس کے علاوہ مہمند ایجنسی کے علاقوں دوایزئی اور لکڑو سے بھی سرکاری سکولوں کے دو اساتذہ کو مسلح افراد نے بندوق کی نوک پر اغواء کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کرلیا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے الزام لگایا ہے کہ ان واقعات میں مقامی طالبان ملوث ہیں۔

مہمند ایجنسی میں پچھلے چند دنوں سے طالبان کے حملوں میں ایک بار پھر شدت آرہی ہے۔ دو دن پہلے طالبان نے منزری چینہ کے مقام پر عسکریت پسندوں اور حکومتی حامی امن کمیٹی کے افراد کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں امن کمیٹی کے چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق جوابی حملے میں دو عسکریت پسند بھی مارے گئے تھے۔ تحریک طالبان مہمند نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے امن کمیٹی کے ایک اہلکار کو یرغمال بنانے کا دعوی بھی کیا تھا۔ گزشتہ روز جب ہلاک ہونے والے امن کمیٹی کے افراد کا جنازہ پڑھایا جارہا تھا تو مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس میں دو افراد زخمی ہوئے گئےتھے۔

مہمند ایجنسی میں کئی مہینوں سے سرکاری سکولوں اور تنصیبات پر حملہ کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران علاقے میں صرف پچاس کے قریب سکولوں اور تعلیمی اداروں کو بم دھماکوں میں تباہ کیا جاچکا ہے جبکہ بنیادی صحت کے مراکز اور دیگر سرکاری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

اسی بارے میں