’مذاکرات کی بحالی، توقع سے بڑی کامیابی‘

پاکستان اور بھارت میں امن مذاکرات کی بحالی کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے توقعات سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں نیوز بریفنگ میں انھوں نے کہا کہ اِن مذاکرات کو جامع مذاکرات کا نام دیں یا کوئی اور، کشمیر سمیت تمام معاملات پر بات چیت پر اتفاق ہونا کافی اہمیت کا حامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے تک بھارت صرف دہشت گردی کے معاملے پر بات کرنا چاہتا تھا لیکن اب تمام معاملات پر گفتگو کے لیے وہ رضا مند ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جامع مذاکرات میں جس معاملے پر جہاں بات تعطل کا شکار ہوئی تھی وہیں سے آگے بڑھائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ سات مئی کے بعد وہ ہندوستانی ہم منصب سے مذاکرات کی بحالی پر بات کریں گے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھوٹان ملاقات میں وزیراعظم من موہن سنگھ پہلے سے کافی زیادہ پراعتماد لگے اور ایسا لگا کہ ان کا مینڈیٹ بھی پہلے سے زیادہ ہے اور کانگریس بھی ان کے ساتھ ہے۔

دونوں ممالک میں بات چیت کی بحالی میں امریکہ اور سعودی عرب کے کردار کے بارے میں سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’دوست ممالک مشورے دیتے ہیں مجبور نہیں کرتے‘۔

جب ان سے پوچھا کہ کیا تمام معاملات پر بات چیت وہیں سے شروع کریں گے جہاں جامع مذاکرات کے تحت معطل ہوئیں تھیں تو انھوں نے کہا کہ ’جب کوئی پانچویں جماعت سے چھٹی جماعت میں جاتا ہے تو تعلیم پہلی سے شروع نہیں کرتا‘۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق پاکستانی وزیرِ خارجہ کی باتوں سے ایسا لگا کہ بھارت لفظ ’کمپوزٹ‘ کو بھولنا چاہتا ہے اور پاکستان بھی ان کی ’ضروریات‘ کے پیش نظر اس پر آمادہ ہوچکا ہے۔ شاہ محمود قریشی دونوں ممالک میں ’تمام معاملات‘ پر بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کرنے پر کافی خوش نظر آئے۔

ایک موقع پر جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے زیر انتظام کشمیر میں ڈیم تعمیر کر رہا ہے تو وہ رپورٹر پر کچھ برہم ہوئے اور کہا کہ بعض مرتبہ باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ جب بھی بھارت نے خلاف ورزی کی تو دفتر خارجہ ان سے بھرپور انداز میں معاملہ اٹھائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات دہشت گردی یا دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونے چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ یہ ہمارے مشترکہ مسائل ہیں اور مشترکہ دشمن بھی ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم من موہن سنگھ کے پاکستان کے دورے کی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ در پردہ سفارتکاری کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں ہے لیکن خورشید محمود قصوری جو کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے وہ حل کے قریب پہنچ چکے تھے، ایسا نہیں ہے کیونکہ اس بارے میں دفتر خارجہ میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم کے بھوٹان میں منعقد سولہویں سربراہ اجلاس میں خطے میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اور ایک دوسرے کے وسائل سے استفادہ کرنے پر بات ہوئی ہے اور اس کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے گی۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ سارک کے رکن ملک کی نمایاں شخصیات پر مشتمل ایک فورم تشکیل دیا جائے گا جو خطے میں حوشحالی اور بہتری کے لیے سفارشات مرتب کرے گا۔

اسی بارے میں