سوات میں نجی ایف ایم نشریات بند

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سنے جانے والا پشتو زبان کا نجی ریڈیو چینل ’سرحدوں کے پار ریڈیو‘ یا پیکٹ کی نشریات وادی سوات میں پچھلے چھ ماہ سے بند ہیں۔

پیکٹ کی انتظامیہ کے مطابق حکومت نے بغیر کوئی وجہ بتائے ان کی نشریات پر پابندی لگائی ہے تاہم سوات میڈیا سینٹر کے ترجمان ایسی کسی پابندی کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

پیکٹ ریڈیو کے مالک اور گزشتہ چالیس سال سے پاکستان میں مقیم نو مسلم برطانوی شہری جان بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ جولائی دو ہزار آٹھ میں فوج کے کہنے پر انھوں نے سوات میں امن کے قیام کےلیے اپنی نشریات کا آغاز کیا تھا۔

’ہمارا مقصد صرف سوات میں امن کےلیے راہیں ہموار کرنا اور وہاں کے عوام کو ایک اچھا پیلٹ فارم فراہم کرانا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ پیکٹ ریڈیو کے کارکن پروگرام بناتے تھے اور پھر اسے فوج کے ایف ایم چینل سے نشر کیا جاتا تھا اور ان میں مذہبی پروگرام بھی ہوتے تھے جو عام لوگوں میں کافی مقبول تھے۔

جان بٹ کے مطابق تقریباً ایک سال تک ان کا ریڈیو سوات میں کام کرتا رہا اور اس دوران حکومت کی طرف سے انھیں ایک الگ ایف ایم چینل قائم کرنے کی اجازت بھی دی گئی اور اس طرح شورش زدہ وادی میں پشتو چینل ’ دہ پولے پرے‘ یعنی سرحدوں کے پار کے نام سے ایک ریڈیو چینل کا آغاز کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ نئے چینل قائم کرنے کےلیے حکومت کے ساتھ باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا گیا اور اس سلسلے میں تمام قانونی ضابطوں کو پورا کیا گیا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال جب مالاکنڈ ڈویژن کے متاثرین اپنے گھروں کو واپس ہوئے تو انھوں نے دوبارہ وہاں اپنی نشریات کی بحالی چاہی لیکن انھیں بتایا گیا کہ ان کی ریڈیو پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

جان بٹ نے مزید بتایا کہ انھوں نے اس سلسلے میں فوج اور محکمہ اطلاعات کے اعلی حکام سے کئی بار ملاقاتیں کئیں لیکن اس کی وجہ نہیں بتائی گئی کہ ریڈیو پر پابندی کیوں لگائی گئی ہے۔

ان کے بقول ’ میری سوات میں امن کے لے کام کرنا دلی خواہش تھی کیونکہ میں نے پاکستان میں اپنا زیادہ تر وقت سوات میں گزرا اور میں نے اسلام بھی وہاں قبول کیا اور پھر اسلامی علوم کے حصول کا آغاز بھی اسی علاقے سے کیا۔‘

تاہم اس سلسلے میں جب سوات میڈیا سینٹر کے ترجمان کا موقف معلوم کرنے کےلیے رابط کیا گیا تو انہوں نے سختی سے اس بات کی تردید کی کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے پیکٹ ریڈیو پر کوئی پابندی لگائی گئی ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ’فوج کی طرف سے صرف عسکریت پسندوں کے غیر قانونی ایف ایم چینلز کو بند کیا گیا ہے کیونکہ ان سے وہ شدت پسندی پھیلاتے تھے۔ اس کے علاوہ اور کسی چینل پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پیکٹ ریڈیو پر اگر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی لگائی گئی ہے تو وہ ان کے علم میں نہیں لیکن فوج کی طرف ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔