’نہیں جانتے کہ ہمارا ووٹ کسے ملےگا‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میرپور اور برطانیہ کے درمیان بہت گہرے سیاسی، سماجی اور معاشی روابط ہیں۔

برطانیہ میں کوئی دس لاکھ پاکستانی آباد ہیں جن میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر سے ہے اور ان میں میرپور سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت ہے۔

میں میرپور یہ جاننے کے لیے آیا تھا کہ یہاں لوگ چھ مئی کو برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں کتنی دلچپسی لے رہے ہیں اور اسی دوران لوگوں سے بات چیت کے دوران بارہا ایک لفظ ’پراکسی ووٹ‘ سننے کو ملا۔

پراکسی ووٹنگ دراصل اپنی عدم موجودگی کی وجہ سے کسی دوسرے فرد کو اپنا ووٹ ڈالنے کا حق دینے کا نام ہے۔

برطانیہ کے انتخابی نظام میں یہ گنجائش موجود ہے کہ اگر کوئی ووٹر معذوری، ملازمت یا پھر بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے پولنگ سٹیشن پر جاکر ووٹ نہیں ڈال سکتا تو ایسی صورت میں وہ پوسٹل بیلٹ یعنی ڈاک یا پھر ’پراکسی‘ کے ذریعے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ہی افراد برطانیہ میں رجسٹرڈ ووٹر ہوں۔

پراکسی ووٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست فارم پر ووٹر اور پراکسی کی تفصیلات درج کرنے کے علاوہ ووٹر کو اس فارم پر دستخط کرنا ہوتا ہے اور یہ وجہ بھی بتانی ہوتی ہے کہ انہیں پراکسی ووٹ کی کیوں ضرورت ہے۔

میرپور میں کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی انتخابات کے موقع پر وہاں موجود نہیں ہوں گے لہذا وہ پراکسی کے ذریعے ہی ووٹ ڈال رہے ہیں لیکن ان ہی میں سے کئی ایسے بھی ہیں جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کی جانب سے ووٹ بالاخر کس کو ڈالا جائے گا۔

Image caption ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے امیدوار کے ووٹ ضائع ہوں:طاہر زیب

ان کا کہنا ہے کہ وہ تعلقات، رشتہ داری اور برادری کے باعث ایسا کرنے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔

میرپور سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری شبیر حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مرتبہ بھی’ والدین کے کہنے پر ایک امیدوار کے حق میں پراکسی ووٹ دیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ایک رشتہ دار امیدوار کا حمایتی ہے اور وہ ہمارے گھر آیا اور انہیں میں نے پراکسی ووٹ ڈالنے کا اختیار دے دیا‘۔ شبیر کے مطابق اس امیدوار کا تعلق ان کے گاؤں سے ہے اور ’اسی لیے والدین نے کہا کہ ان ہی کو ووٹ دو‘۔

حسین کا کہنا ہے کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ اس امیدوار کا تعلق کس جماعت سے کیونکہ مجھے یہ جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں چاہتا تھا کہ میں اس بار کنزرویٹو کو ووٹ دوں لیکن میں اپنے والدین کی بات بھی نہیں ٹال سکتا تھا‘۔

Image caption چاہتا تھا اس بار کنزرویٹو کو ووٹ دوں لیکن اپنے والدین کی بات بھی نہیں ٹال سکتا: شبیر حسین

پراکسی ووٹنگ اور پوسٹل بیلٹ کے طریقۂ کار پر میرپور میں بحث مباحثہ بھی ہو رہا ہے اور کئی لوگ اس پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ایک کشمیری نژاد برطانوی شہری چوہدری ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ ’برطانیہ میں مقیم پاکستانی یا کشمیری کمیونیٹی میں لوگ زبردستی گھروں میں آ کر پراکسی کے ذریعے ووٹ ڈالنے پر مجبور کرتے ہیں‘۔

بعض کشمیری نژاد برطانوی شہریوں کا کہنا ہے پوسٹل بیلٹ یا پراکسی کے ذریعے ووٹ ڈالنے پر اس لیے زور دیا جاتا ہے کیونکہ انہیں یہ پریشانی ہوتی ہے کہ اگر لوگ ووٹ ڈالنے نہیں نکلے تو ان کے امیدوار کے ووٹ ٰضائع ہوسکتے ہیں اور دوسرا وہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ووٹ اسی امیدوار کو جائے جس کی وہ حمایت کرتے ہیں۔

تا ہم ان کا کہنا ہے کہ جس شخص کو ووٹ ڈالنے کا اختیار دیا جاتا ہے یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کس امیدوار کے حق میں وہ ووٹ استعمال کرتا ہے۔

میر پور کے مقامی ہوٹل کے مالک طاہر زیب اگرچہ خود برطانوی شہری نہیں لیکن ان کے خاندان کے لوگ برطانیہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنے ان رشتہ داروں اور دوستوں کو قائل کیا کہ وہ ڈاک یا پراکسی کے ذریعے ووٹ ڈالیں جن کے بارے میں مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے جائیں گے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ’ برطانیہ میں نوجوان نسل کم ہی ووٹ ڈالنے پولنگ سٹیشن جاتی ہے اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے امیدوار کے ووٹ ضائع ہوں‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پراکسی ووٹنگ یا پوسٹل بیلٹ کا غلط استعمال ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ برطانیہ کی حکومت اس کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے کیا طریقہ اپنائے گی۔

اسی بارے میں