تیل کے اخراج سے آبی حیات کو نقصان

پاکستان کے شہر کراچی میں یونان کے بحری جہاز تسمان اسپرٹ کے حادثے کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیات کے اس بڑے حادثے کے بعد تمر کے جنگلات اور آْبی حیات کی افزائش متاثر ہوئی ہے۔

فائل فوٹو

یاد رہے کہ ستائیس جولائی سنہ دو ہزار تین کو کراچی میں تسمان اسپرٹ نامی تیل بردار بحری جہاز زمین میں دھنس گیا تھا جس سے تیس ہزار ٹن خام تیل سمندر میں بہہ گیا تھا۔ یہ تیل آبی حیات کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔

وفاقی محکمہ ماحولیات کی اُس وقت کی رپورٹس کے مطابق اس تیل کا تینتیس فیصد فضائی آلودگی کا باعث بنا جبکہ تین لاکھ سے زائد افراد بلواسطہ یا بلا واسطہ متاثر ہوئے جبکہ سولہ ہزار ٹن تیل چالیس مربع کلومیٹر کی حد تک سمندر کی تہہ میں بیٹھ گیا۔

ماہرِ ماحولیات طاہر قریشی کا کہنا ہے کہ اس تیل کے اثرات آبی حیات مچھلیوں، جھینگوں اور تمر کے جنگلات پر ہوئے، جہاں اُن کی افزائشِ نسل ہوتی ہے، اب وہاں تمر کے بیج نظر نہیں آتے۔

طاہر قریشی کے مطابق بابا بھٹ، پیر شمس، ڈنگی اور بنڈال جزائر کے علاقوں میں جہاں تمر کے بیج بہتے ہوئے پہنچتے تھے اور ہم انہیں جمع کرکے لگایا کرتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہوتا۔

اُن کے مطابق مبارک ولیج سے لیکر ابراہیم حیدری تک ماہی گیر بستیوں کے رہائشی ماہی گیروں کا اس تیل کی وجہ سے معاشی نقصان تو ہوا مگر اِس کے ساتھ جلد اور آنکھوں کی بیماریاں بھی پھیلیں۔

ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک کے رہنما محمد علی شاہ کا کہنا ہے ’آلودگی کی وجہ سے اب ساحل کے قریب مچھلی کا شکار نہیں ہوتا اس آلودگی کی ایک بڑی وجہ تسمان اسپرٹ کا تیل بھی ہے۔اُن کے مطابق آج تک ماہی گیروں کو ان کے نقصان کا معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستانی حکام نے تسمان اسپرٹ کے کپتان سمیت دیگر عملے کو گرفتار کیا تھا، جنہوں نے چند سالوں بعد ضمانت حاصل کی اور بعد میں انہیں حاضری سے بھی مستثنیٰ قرار دے دیا گیا تھا۔

کے پی ٹی کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا کہنا ہے کہ اس درخواست میں ہم نے کہا کہ جو جہاز کے مالک ہیں وہ اپنی کمپنی کو کہیں کہ وہ ایک بلین ڈالر کی سکیورٹی دیں۔ ’یہ درخواست ہائی کورٹ میں تو کامیاب نہیں ہوئی تاہم اب ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں عدالت سے باہر معاملات طے کرنے کی بھی باتیں ہوئیں جس کے لیے باہر سے وکلاء آئے تھے مگر اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا ۔

ڈاکٹر فہمیدہ فردوس محکمہ جنگلی حیات سندھ کی ڈپٹی کنزرویٹر ہیں اور وفاقی حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی میں بھی شامل تھیں، کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے وقت کچھ مردہ پرندے، مچھلیاں اور کچھوے ملے تھے، اس لیے یہ خدشہ تھا کہ کچھ عرصے کے بعد اس تیل کے مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے مگر تین چار سال گزرنے کے بعد اس کے نتائج بظاہر نظر نہیں آئے۔

اُن کے مطابق اِس بات کے خدشات موجود ہیں کیونکہ دنیا کے دیگر ممالک میں جہاں بھی ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے اس کے نتائج بعد میں سامنے آئے ہیں۔

ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ دنیا میں سول لیبرٹی کنونشن موجود ہے جس کے کئی ممالک رکن ہیں جس کے تحت کسی ملک کا تیل بردار بحری جہاز کسی ملک کی سمندر کو آلودہ کرتا ہے یا تیل خارج کرتا ہے تو اسے اُس کا معاوضہ ادا کرنا پڑے گا۔مگر پاکستان نے اس کنونشن پر دستخط نہیں کیے جس کی وجہ سے تسمان اسپرٹ حادثے میں وہ معاوضے سے محروم رہا۔

ماہرِ ماحولیات طاہر قریشی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے کوئی پالیسی یا پلان نہ بنایا تو آئندہ بھی ایسے حادثات رُونما ہو سکتے ہیں۔

دنیا کے اسی فیصد تیل بردار بحری جہاز پاکستان کی سمندری حدود سے گزرتے ہیں، اُن میں سے تیل بہتا بھی ہے اور وہ اپنا فرنس آئل یا انجن آئیل یہاں پھینک کر چلے جاتے ہیں، مگر اربابِ اختیار کو کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ وہ اُن سے کہیں کہ اس کا ٹیکس ادا کریں، اور یہ رقم آبی حیات اور اس سے وابستہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔