بجلی بچاؤ مہم: سینما بند

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے لیسکو نے شہر کے سینما گھروں کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے اور اس فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فائل فوٹو، سنیما گھر
Image caption بغیر کسی نوٹس ان کے سنیما گھر کی بجلی کاٹ دی گئی ہے اور یہ پالیسی جاری رہی تو پاکستان میں کوئی سنیما گھر باقی نہیں بچے گا: فراز چودھری

یہ احکام بجلی کی لوڈشیڈنگ کو کم کرنےاور بجلی کی بچت کے لیے شروع کی جانے والی مہم کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں۔

لیسکو نے ان احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کی پاداش میں سینچر کی رات آٹھ بجے شہر کے ایک جدید سینما گھر سنے سٹار کی بجلی کاٹ دی جس کے باعث سنیما کی انتظامیہ نے جنریٹر کے ذریعے اپنا شو جاری رکھا۔

لاہور شہر میں لگ بھگ ایک درجن سے زیادہ سینما گھر ہیں جہاں فلموں کی نمائش کی جاتی ہے۔سینماگھر مالکان نے لیسکو کے فیصلے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے جو اتوار کو دوپہر تین بجے لاہور میں ہوگا۔

پاکستان میں عموماً سینما گھروں میں جن فلموں کی نمائش کی جاتی ہیں اس کے لیے دن میں تین شو ہوتے ہیں ۔ پہلا شو دوپہر تین جب کہ آخری شو رات ساڑھے بجے شروع ہوتا جو رات ایک بجے کے قریب ختم ہوتا ہے۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ لیسکو کی طرف سے رات آٹھ بجے سنیما گھروں کو بند کرنے کے باعث رات نو بجے شروع ہونے والے شو ختم ہوجائے گا اور بقول سینما مالکان اسی شو میں سب سے زیادہ لوگ فلم دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

سینما مالکان کی ایسوسی ایشن کے صدر جہانزیب بیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سینما گھروں کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور کچھ سنیما گھروں کی انتظامیہ کو زبانی طور پر اس فیصلے کے بارے میں اطلاعات دی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے لیے اس فیصلے پر عمل درآمد کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ لوگ تفریح کے لیے رات وقت ہی سینماگھروں کا رخ کرتے ہیں اور جس وقت سینما گھر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس وقت تو سینما گھروں میں کاروبار شروع ہوتا ہے۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ مارکیٹوں کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے حالانکہ مارکیٹ صبح کھل جاتی ہیں اور کاروبار کے لیے دس گھنٹوں کا وقت مل جاتا ہے جب کہ سینما گھروں کو کاروبار کرنے کے لیے صرف تین گھنٹوں کا وقت دیا جا رہا ہے ایسی صورت حال میں سنیما مالکان کے لیے یہ کاروبار جاری رکھنا کیسے ممکن ہوگا۔

جہانزیب بیگ نے سینما گھروں کو رات آٹھ بجے بند کرنے کے فیصلے کو امتیازی قرار دیا اور بقول ان کے یہ فیصلہ نہ صرف سینما گھروں کے مالکان کے ساتھ بلکہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ عوام کو پہلے ہی تفریح کے مواقع کم ملتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شہر کے ایک سینما گھر کی بجلی کاٹ دی گئی جبکہ دوسرے ایک سینما گھر میں جاری فلم کی نمائش کو روک دیا گیا ۔

لیسکو کے فیصلے کی زد میں آنے والے سینما کے مالک فراز چودھری نے کہا کہ بغیر کسی نوٹس بجلی کاٹ دی گئی ہے اور یہ پالیسی جاری رہی تو پاکستان میں کوئی سینما گھر باقی نہیں بچے گا۔

سینما مالکان ایسوسی ایشن کے صدر جہانزیب نے بتایا کہ لاہور میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں وہ آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیں اور انہیں اس بات کی امید ہے کہ حکومت اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے گی جس کے تحت سینما گھروں کو جلد بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں