امن لشکر رکن کا گھر نذرِ آتش

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں امن لشکر کے ایک رکن کے گھر کو نامعلوم مُسلح افراد نے نِذر آتش کر دیا ہے جس سے مکان میں موجود ایک خاتون ہلاک جب کہ ایک خاتون سمیت دو بچے جھلس گئے ہیں۔

فائل فوٹو
Image caption سوات میں فوجی آپریشن کے بعد ایک بار پھر تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

پولیس افسر محمد غوث نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کے درمیانی شب تحصیل کبل سے تیرہ کلومیٹر دور مغرب کی جانب سنگر سیری میں نامعلوم مُسلح افراد نے امن لشکر کے ایک رکن روشن زادہ کے گھر پر مٹی کا تیل چھڑک کر دستی بم پھینکے۔

اہلکار کے مطابق چند منٹوں میں پورے گھر کو آگ نے اپنے لپیٹ میں لے لیا۔

ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو پولیس اہلکار نے بتایا کہ گھر کے اندر موجود ایک خاتون ہلاک جب کہ ایک اور خاتون سمیت دو بچے بُری طرح جھلس گئے ہیں۔ زخمیوں کو کبل سول ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آگ کے نتیجے میں گھر بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔

اس واقعہ کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی حکام نے کسی پر الزام لگایا ہے۔

یاد رہے کہ سنیچر کو بھی سوات کے صدر مقام مینگورہ میں ایک بڑی مارکیٹ میں خودکش دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک جب کہ بارہ زخمی ہوگئے تھے۔

سوات میں گزشتہ سال شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد امن قائم ہوا تھا لیکن اب ایک بار پھر سوات میں طالبان کی موجودگی اور بم دھماکوں نے لوگوں میں ایک خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔

اسی بارے میں