آزادی صحافت کس کی ترجیح ؟

پیپلز پارٹی حکومت کی میڈیا سے متعلق کارکردگی کا دفاع کرنےمیں حکومتی ترجمان و وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ کو پیر کے روز صحافتی آزادی کے عالمی دن کے موقع میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

بعض شرکاء کا کہنا تھا کہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی ٹھوس کارکردگی ثابت کرنا ان کے لیے ناممکن رہا۔

پیپلز پارٹی کی دو سالہ پرانی حکومت کے لیے اس مرتبہ یہ عالمی دن ایک ایسے وقت سامنے آیا جب ملک میں بی بی سی اردو کی نشریات چونتیس میں سے چوبیس ایف ایم سٹیشنز پر بند کی گئی ہیں اور پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے انتہا پسندی کے خلاف معروف سٹیج ڈرامے ’برقعہ وگنزا‘ پر پابندی ہے۔ دوسری جانب اخباری مالکان بھی اشتہارات کی نوے کروڑ روپے کی رقم کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اس وقت حکومت سے ناراض ہیں۔

یورپی یونین کی جانب سے اسلام آباد میں میڈیا کی آزادی سے متعلق عالمی دن کے موقع پر ایک مکالمے میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے بی بی سی اردو کی پاکستان میں اکثر نجی ایف ایم سٹیشنوں سے نشریات پر پابندی اٹھائے جانے کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرتے ہوئے ایم ایف نشریات کو ایک منظم طریقے سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

لیکن اس سوال کے جواب میں کہ کاغذی کارروائیاں اور انتظام بی بی سی نشریات کو بار بار بند کیے جائے کے بغیر بھی کیا جاسکتا تھا، انہوں نے اپنا پرانا موقف دھرایا کہ میڈیا میں تغریات جاری ہیں لہذا وہ وقت کے ساتھ ساتھ طریقۂ کار وضح کر رہے ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ کیا وہ کسی بڑے نجی ٹی وی نیوز چینل کو اس طرح بار بار ’آف ائر‘ کرسکتے ہیں تو اس کا انہوں نے جواب نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ بی بی سی کا نہیں بلکہ حکومت اور نجی ایف ایم سٹیشنز کا ہے۔ ’اگر بند کرنا ہوتا تو ہم تمام سٹیشن بند کر دیتے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا ہے‘۔ بعض لوگوں کے مطابق اس کی وجہ وزیر موصوف کی نیک نیتی سے زیادہ عدالتی فیصلے کا ہے جو ماضی میں بی بی سی کے حق میں کیا گیا تھا۔

ماضی کی کارکردگی تو غیرتسلی بخش رہی لیکن ان کی باتوں سے مستقبل بھی زیادہ تابناک دکھائی نہ دیا۔ وزیر اطلاعات نے بہت سے ایسے اعلانات بھی کیے جن پر عملدرآمد کی توقع شاید ہی کسی تو تھی۔ ان میں سے سب سے زیادہ ناممکن بات قبائلی صحافی حیات اللہ خان کی موت کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو عام کرنا سرفہرست ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ نے حیات اللہ رپورٹ کو عام کرنے کے مطالبے کے بارے میں اپنی ذمہ داری سے ہاتھ دھونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کا معاملہ ہے لیکن وہ خیبر پختونخواہ کی حکومت سے اس پر بات کریں گے اور اسے ضرور منظر عام پر لائیں گے۔

سینئر صحافی مظہر عباس نے اس موقع پر وفاقی وزیر کو بتایا کہ یہ رپورٹ وفاقی وزارت داخلہ میں پڑی ہے لیکن مرحوم صحافی کی اہلیہ نے کمیشن کے سامنے جن لوگوں کے نام لیے ہیں اس کی وجہ سے یہ رپورٹ کبھی بھی سامنے نہیں آسکے گی۔ اس پر وفاقی وزیر سے یہ بھی نہ ہوا کہ انہیں درست کرسکتے کہ نہیں پیپلز پارٹی حکومت اسے سامنے لائے گی۔

حکومت اور فوجی کی جانب سے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعد نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد کو تو واپس لوٹنے کے لیے کہا جا رہا ہے لیکن صحافیوں کو وہاں جانے کی اب بھی اجازت نہیں۔ وفاقی وزیر سے کہا گیا کہ مقامی آبادی کو لوٹنے کو تیار نہیں لیکن صحافی آزادنہ طور پر جاکر زمینی حقائق جان سکیں گے کہ متاثرین لوٹ سکتے ہیں یا نہیں۔ اس پر بھی ان کا کہنا تھا کہ وہ صحافیوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

اس مکالمے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی چینل مالکان سے صحافیوں کو وقت پر تنخواہیں اور مناسب سکیورٹی انتظامات پر آج تک مجبور نہیں کرسکی ہے۔ اگر دونوں کے درمیان کوئی مسئلہ کبھی سامنے آیا ہے تو وہ اشتہارات کے غلط استعمال اور ان کی عدم ادائیگی ہی ہے۔ اسی وجہ سے کبھی حکومت نے کسی چینل کو صحافیوں کے حالات کار اطمینان بخش نہ ہونے پر بلیک لسٹ نہیں کیا ہے۔

مکالمے سے ایک ہی بات واضح ہوکر سامنے آئی کہ میڈیا اور صحافیوں کا تحفظ و آزادی نہ ماضی میں اور نہ آج پیپلز پارٹی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بیانات سے کاش مسائل حل ہوسکتے۔

اسی بارے میں