بلوچستان: ہلاکتیں، ہڑتال اور مظاہرے

ٹارگٹ کلنگ کے دوران زخمی ہونے والے ایک ڈرائیور کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ بلوچستان میں جمعہ کی رات سے سنیچر کی دوپہر تک نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بعض شہروں میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی اور مظاہرین نے سرکاری املاک کو نذر آتش کرنے کے علاوہ کئی گھنٹوں تک کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بھی بند رکھا۔

خضدار میں ایک نامعلوم موٹرسائیکل سوار نے گرشک میں ایک دوکان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد عبدالستار ساسولی اور بیبرگ بلوچ ہلاک ہو گئے۔ فائرنگ کے اس واقعے کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی، بلوچ طلبہ تنظیم بی ایس او، آزاد اور بی ایس او محی الدین کی اپیل پر سنیچر کو خضدار تربت نوشکی اور بعض دیگر شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

سنیچر کوہڑتال کے دوران نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے بی این پی کے ایک اور کارکن عبدالرحمن کو ہلاک کر دیا۔ پولیس اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے رہی ہے۔ جب کہ اواران میں بھی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے توالی بلوچ نامی شخص ہلاک ہوا ہے۔

ان واقعات کے بعد مشتعل مظاہرین نے خضدارمیں محکمہ تعلیم پبلیک ہیلتھ، ایریگیشن اور نادرہ کے دفاتر کو نذر آتش کیا ہے جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کا استعمال کیا۔

مذکورہ بالا تنظیموں نے ان ہلاکتوں کے خلاف اتوار کو بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا بھی اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں