بینظیر قتل کیس: مزید وقت سے انکار

راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے مزید وقت دینے انکار کر دیا ہے اور اس سلسلے میں دائر کی جانے والی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے سامنے قتل کیا گیا تھا۔

عدالت نے اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کریں۔

بدھ کو جب اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لیاقت باغ کے باہر جہاں بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تھا، اُس جگہ کو دھونے کے حوالے سے حکومت کی طرف سے قائم کردہ تین رکنی کمیشن اس کی تحقیقات کر رہا ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ جب تک یہ کمیشن اپنی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو پیش نہیں کرتا اُس وقت تک اس مقدمے کی سماعت ملتوی کردی جائے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اکرم اعوان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے انتظار میں اس مقدمے کی کارروائی چھ ماہ سے زائد عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس طرح اگر روزانہ کی بنیاد پر اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیے جاتے رہے تو پھر اس مقدمے کے فیصلے میں کافی عرصہ درکار ہوگا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان جن پر فرد جُرم بھی عائد ہوچکی ہے، اُن کے خلاف چھ ماہ سے زائد عرصے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

عدالت نے اُنیس مئی کو اس مقدمے کے حوالے سے گواہوں کو بیانات کے لیے طلب کیا ہے۔

یاد رہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے بینظیر بھٹو قتل کیس میں مزید تین ملزمان کو شامل تفتیش کیا ہے جو کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کی بس پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث تھے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں پانچ ملزمان اس وقت اڈیالہ جیل میں ہیں جن میں محمد رفاقت، حسنین گُل، اعتزاز شاہ، قاری عبدالرشید اور شیر باز شامل ہیں۔

اُدھر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر کی جانے والی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

خودکو بینظیر بھٹو کا پروٹوکول افسر کہنے والے چوہدری اسلم نے درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویزمشرف، سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی، وزیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر قانون بابر اعوان کے خلاف درج کیا جائے۔

اسی بارے میں