سپریم کورٹ پر سؤروں کا حملہ، سات زخمی

جنگلی سؤروں نے وہاں پر موجود گاڑیوں پر بھی حملہ کردیا جس میں تین ڈرائیور بھی زخمی ہوگئے اور متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا سپریم کورٹ کے پارکنگ ایریا میں جنگلی سؤروں نے وہاں پر موجود افراد پر حملہ کردیا جس سے سات افراد زخمی ہوگئے۔

زخمیوں میں مقامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے دو کیمرہ مین بھی شامل ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق جمعرات کو اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے اہلکار سپریم کورٹ اور ایوان صدر سے ملحقہ علاقے سے گھاس کی کٹائی کر رہے تھے کہ اسی دوران تین سؤر وہاں سے نکل کر سپریم کورٹ کے پارکنگ ایریا میں آگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پہلے سؤروں نے اُس جگہ پر حملہ کیا جہاں پر الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے کیمرہ مین موجود تھے جو سپریم کورٹ میں این آر او پر عمل درآمد کے مقدمے کی سماعت کی کوریج کے لیے آئے تھے اس حملے میں دو کیمرہ مین زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد جنگلی سؤروں نے وہاں پر موجود گاڑیوں پر بھی حملہ کردیا جس میں تین ڈرائیور بھی زخمی ہوگئے اور متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سؤروں نے یہاں پر ہی بس نہیں کی بلکہ شاہراہ دستور پر دو راہ گیروں کو بھی زخمی کردیا۔

زخمی ہونے والے ان افراد کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا جہاں پر اُن کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔

ایک عینی شاہد جمشید حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ جب جنگلی سؤر مختلف افراد پر حملہ آور ہو رہے تھے تو اُس وقت پولیس اور رینجرز کے اہلکار بھی موجود تھے اور اُن کے پاس اسلحہ بھی موجود تھا لیکن کسی نے بھی ان سؤروں کو ہلاک کرنے کے لیے گولی نہیں چلائی۔

انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے بعد سؤر ریڈیو پاکستان سے ملحقہ گرین ایریا میں روپوش ہوگئے۔

سپریم کورٹ کے وکیل نعیم ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ چیف جسٹس سے استدعا کریں گے کہ وہ اس واقعہ کا از خود نوٹس لیں اور سی ڈی اے کے حکام کو اس ضمن میں ہدایات دیں کہ ایسے جانوروں سے بچاؤ کے لیے جنگلوں کے قریب واقع عمارتوں کے باہر باڑ لگائیں۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم ہاؤس، ایوان صدر اور سپریم کورٹ کے عقبی حصے میں جنگلات ہیں جہاں پر سؤر اور دیگر جنگلی جانور موجود ہیں۔

اسی بارے میں