’بلوچستان کےتحفظات دور کریں گے‘

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے ہفتے کو وفاق سے ناراض بلوچ رہنماء سردار عطاء اللہ مینگل سے کراچی میں ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم نے سردار مینگل سے ملاقات کرنے کے بعد کہا ہے کہ وہ بلوچ رہنماؤں کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے اور دیگر بلوچ راہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

جبکہ سابق وزیراعلی بلوچستان سردار عطاءاللہ مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ان کے آدمی مارے جا رہے ہیں اور لاپتہ بنائے جا رہے ہیں۔ سردار مینگل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ملاقات میں اپنا وقت ضائع کیا ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں بلوچ رہنما سردار عطاءاللہ مینگل سے ان کےگھر پر ملاقات کی ہے۔ بلوچستان کے سابق وزیراعلی سے وزیراعظم کی ملاقات میں بلوچستان کے حالات زیربحث رہے۔ پون گھنٹے کی ملاقات کے بعد وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ ملاقات خوشگور ماحول میں ہوئی مگر سردار مینگل نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنا وقت ضائع کیا ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سردار عطاء اللہ مینگل سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ وہ بلوچ راہنماؤں کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچ راہنماؤں کا جو غصہ ہے، تحفظات اور اعتراضات ہیں وہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ سردار مینگل کی شکایت جائز ہے کہ وفاق کی جانب سے عملاً کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ وہ یقین دلواتے ہیں کہ عملی اقدامات نظر آئیں گے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ان کے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہے مگر بلوچ رہنماء سردار عطاء اللہ مینگل نے وزیراعظم کی موجودگی میں کہا ہے کہ بلوچستان میں ان کے لوگوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ، ’ہمارے آدمی عائب ہیں، ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں، بلوچستان میں ظلم ہورہا ہے۔‘ ان کےمطابق ان تمام مسائل کا حل سرکار کے پاس ہے اور وہ ان کو مشورہ نہیں دیں گے کہ آج کا کام کل پر چھوڑ دیں۔

وزیراعظم گیلانی نے مختصر ملاقات کے بعد کہا ہے کہ وہ دیگر بلوچ راہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور جو بزرگ ہیں وہ ان کے پاس خود چل کر جائیں گے۔

دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن عبدالرؤف مینگل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عملی اقدامات کے بغیر اس طرح کی ملاقاتیں نتائج نہیں دے سکیں گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جنرل مشرف کے فوجی اقتدار کی آمریت سے بھی زیادہ تشدد کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق آج بھی لوگوں کو عائب کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بلوچستان میں سیاسی کارکنان کے خلاف جاری آپریش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خضدار میں ایک سیاسی کارکن رسول بخش مینگل کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی پشت پر لکھا گیا تھا کہ پاکستان زندہ آباد۔

عبدالرؤف مینگل کے مطابق اس طرح کے واقعات کے بعد حالات میں بہتری کیسے آئےگی۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن اور ٹارگٹ کلنگ کے بعد جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے وزیراعظم سے پہلے پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف نے بھی سردار عطاء اللہ مینگل سے گزشتہ ہفتے ملاقات کی ہے جو بلا نتیجہ ختم ہوئی تھی۔