دیہاتیوں نے آٹھ ’ڈاکو‘ مار دیے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دیہاتیوں نے آٹھ میبنہ ڈاکوؤں کو پتھر اور لاٹھیاں مار مار کر ہلاک کر دیا ہے جبکہ مرنے والوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ بےقصور تھے اور انہیں بےگناہ مارا گیا ہے۔

ڈاکوؤں سے مزاحمت کے دوران چار دیہاتی بھی زخمی ہوئے ہیں ۔

ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ پولیس کے سربراہ رانا احمد حسن نے بی بی سی اردو کے عباد الحق کو بتایا ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں دو موقف سامنے آئے ہیں اور ان کا جائزہ لیا جارہا ہے اور حقائق کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے اس کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے بیس کلومیٹردور ایک گاؤں میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب پیش آیا اور مقامی لوگوں کا اس واقعہ کے بارے میں کہنا ہے کہ مبینہ ڈاکوؤں نے پہلے ایک گھر میں داخل ہوکر وہاں کی مکینوں کو یرغمال بنایا اور گھر سامان لوٹ لیا۔

اس کے بعد ڈاکو ایک دوسرے گھر میں داخل ہوئے لیکن اس گھر میں موجود افراد نے مزاحمت کی جس کے نیتجے میں چار افراد زخمی ہوگئے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ مقامی لوگوں کے بقول کہ فائرنگ کی آواز سن کر علاقے کے لوگ اس گھر کے باہر جمع ہوگئے جس گھر میں ڈاکو موجود تھے ۔

اس واقعہ کے بارے میں مقامی شہری ثاقب نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکووں اور علاقے کے لوگوں کے درمیان فائرنگ بھی ہوئی تاہم مبینہ ڈاکووہاں سے فرار ہوگئے۔ ثاقب کے بقول گاؤں والوں نے اس وقت مبینہ ڈاکوؤں کو گھیرے میں لیا جب وہ اپنے ایک ساتھی کو قریبی کھتیوں سے واپس لینے کے لیے آئے تھے۔

مقامی شہری نے بتایا کہ جب گاؤں کے لوگوں نے گاڑی کو گھیرے میں لیا توگاڑی میں موجود افراد گاڑی کو اندر سے بند کرلیا اور اپنی شاخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جس پر گاؤں نے انہیں مارا۔

مسلم لیگ قاف کے رکن اسمبلی عمر حیات کاٹھیا کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کا تعلق ان کے انتخابی حقلے سے تھا وہ اپنے کسی کام کے سلسلہ میں پیر محل کے علاقے جارہے تھے جہاں راستے میں ایک گاؤں کے قریب ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ عاصمہ جہانگیر نے اپنے بیان میں کہا کہ مبینہ ملزموں کو ہلاک کرنے کی کارروائی نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ غیر انسانی بھی اور دنیا کا کوئی بھی قانون چور کے لیے موت کی سزا تجویز نہیں کرتا۔ کمیشن کی سربراہ نے کہا کہ لاقانونیت کے اس رجحان کو ختم کرنے کیے حکومت پنجاب ٹھوس اور موثر اقدامات کرے۔

اسی بارے میں