دتہ خیل کیوں مشہور ہے؟

نائن الیون سے پہلے دُنیا میں شاید بہت کم لوگ پاک افغانستان سرحد پر واقع قبائلی علاقے وزیرستان کے بارے میں جانتے ہو گے۔مگر آج صورتحال یہ ہے کہ وزیرستان نہیں بلکہ وزیرستان کی چھوٹی چھوٹی تحصیلوں کے نام دُنیا میں مشہور ہونے لگے ہیں۔

ان میں دتہ خیل ایک ایسا علاقہ ہے جسے حال ہی میں مسلسل امریکی ڈرون حملوں کے باعث مُلکی اور بین الااقوامی ذرائع ابلاغ میں خصوصی شہرت حاصل ہوئی ہے۔

تحصیل دتہ خیل کی آبادی شمالی وزیرستان کے نو تحصیلوں میں تیسرے نمبر پر ہے اوراس تحصیل کے اکثر علاقے افغان سرحد کے قریب واقع ہیں۔ ان میں بویا، محمد خیل، سیدآباد، مداخیل، خدر خیل، منزرخیل، پائی خیل اور انزرکس کے علاقے شامل ہیں۔

شمالی وزیرستان میں سب سے زیادہ پہاڑی سلسلے اور گھنے جنگلات بھی اسی علاقے میں ہیں۔افغانستان میں جب روس کے خلاف جہاد جاری تھا تو ان دنوں دتہ خیل تحصیل کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔اس علاقے کو مجاہدین روس کے خلاف جنگ میں اپنے مضبوط ٹھکانوں کے طورپر استمعال کرتے تھے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد زیادہ تر مُلکی اور غیر مُلکی جنگجوؤں نے جنوبی و شمالی وزیرستان کا رُخ کیا۔ پہلے پہل وزیرستان آنے والے ان جنگجوؤں نےعام شہریوں کے ساتھ رہائش اختیار کی۔مگر جب پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تو طالبان جنگجوؤں نے اپنے ٹھکانے دتہ خیل جیسے بلند پہاڑی سلسلوں اور گھنے جنگلات میں قائم کیے۔

شمالی وزیرستان میں سرکاری اہلکار بتاتے ہیں کہ حافظ گل بہادر گروپ کے طالبان اور افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی اور سراج الدین حقانی کے مضبوط ٹھکانے بھی تحصیل دتہ خیل میں واقع ہیں۔اس کے علاوہ پنجابی طالبان اور کچھ عرب غیر مُلکیوں کے پناہ گاہیں بھی اسی علاقے میں موجود ہیں۔

شمالی وزیرستان میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق گزشتہ چار مہینوں میں صرف دتہ خیل کے علاقے میں گیارہ ڈرون حملے ہوئے ہیں جس میں چوراسی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں غیر مُلکی عرب مقامی طالبان، پنجابی طالبان کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔حکام کا کہنا کہ گیارہ ڈرون حملوں میں تیس سے زیادہ میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں