ہمیش خان کی حوالگی کیلیے باضابطہ درخواست

پاکستان کی وزرات خارجہ نے قومی احتساب بیورو کے مفرور ملزم بنک آف پنجاب کے سابق صدر ہمیش خان کی حوالگی کے لیے امریکہ کو باضابطہ طور پر خط لکھ دیا ہے۔

ہمیش خان کےخلاف پاکستان میں بنک فراڈ کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔

اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کو وزارت خارجہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ امریکہ نے ہمیش خان پر تشدد نہ کیے جانے کی جو یقین دہانی مانگی تھی وہ بھی تحریری طور پر دے دی گئی ہے۔

بنک آف پنجاب کے سابق صدر ہمیش خان مالیاتی دھوکہ دہی کا الزام لگنے کے بعد پاکستان سے فرار ہوکر امریکہ چلے گئےتھے۔ان کے وکیل بیرسٹر محمود شیخ نے عدالتی کارروائی کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل اور ایک افسر رات کو ہی امریکہ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں اور امکان ہے کہ چودہ مئی تک ہمیش خان پاکستان پہنچ جائیں گے اور اسی روز انہیں عدالت پیش کیا جائے گا۔

بنک آف پنجاب کے سابق صدر ہمیش خان اور اس مقدمے کے چند قرض نادہندگان کے خلاف شہباز شریف دور میں مقدمہ درج کیا گیا۔

ہمیش خان پرالزام ہے کہ انہوں نے سابق وزیرِاعلٰی پنجاب پرویز الہی کے دور میں تقریباً ساڑھے آٹھ ارب روپے کا قرضہ جاری کیا اور اس کے عوض مناسب جائیداد رہن نہیں رکھی تھی۔ یہ مقدمہ ابھی نیب کے پاس ہی تھا کہ ہمیش خان بیرون ملک فرار ہوگئے۔

ان کے فرار ہونے پر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے افسروں کو مورد الزام ٹھہرایا تھا اور اب امریک سے ان کی واپسی میں تاخیر پر بھی وزیر اعلی پنجاب نے وفاقی حکومت کے خلاف سخت بیان جاری کیا۔

بنک آف پنجاب کے زیادہ تر حصص حکومت پنجاب کے پاس ہیں اور ہمیش خان کے وکیل بیرسٹر محمود شیخ نے کہا ہے کہ ہمیش خان نے سپیریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں کہا تھا کہ خاص طور پر پنجاب حکومت نے ان پر بہت دباؤ ڈالاتھا کہ وہ کچھ سیاسی لوگوں کا نام اس مقدمہ میں شامل کرادیں۔

ہمیش خان کے وکیل نے بتایا کہ اس مقدمہ میں ملوث ایک ملزم شیخ افضل کے سوا تمام ملزمان نیب سے سودے بازی کے بعد یا تو رہا ہوچکے ہیں یا ضمانت پر ہیں۔بیرسٹر محمود شیخ نے کہا کہ ہمیش خان نےامریکی عدالت میں اپنی پاکستان حوالگی روکنے کے لیے جو کیس کررکھا تھا وہ بھی انہوں نے واپس لے لیاہے اورانہیں یقین ہے کہ اعلٰی عدلیہ انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کرے گی۔

واضح رہے کہ ماضی میں پاکستان نیوی کے سابق سربراہ ایڈمرل منصورالحق کو بھی امریکہ نے پاکستان کے حوالے کیا تھا اور انہوں نے نیب کو رقم واپس کردی تھی۔

اسی بارے میں