امریکی ردِعمل فطری ہے: پاکستان

نیو یارک ٹائم سکوائر ناکام حملہ جو دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئی آزمائش بن گیا ہے۔ نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں ناکام بم حملے کے پس منظر میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں سخت لب و لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے لیکن اسلام آباد فی الحال ان بیانات کے بارے میں بظاہر زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیتا۔

ٹائمز سکوائر ملزم کے پاکستان سے تعلق اور اس حملے کی منصوبہ بندی میں کسی پاکستانی گروہ کے ملوث ہونے کے خدشات سامنے آنے کے بعد امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے مستقبل میں کسی ایسے واقعے میں پاکستان کا ہاتھ ہونے کی صورت میں پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

پاکستانی طالبان ملوث مگر پاکستان بے خبر

پاکستانی جانتے ہیں کے اسامہ کہاں ہے: ہیلری

اختتام ہفتہ ایک بیان میں پاکستان کو خبر دار کرنے کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے زیادہ تعاون کر رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے علاوہ اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے بھی اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ اس ناکام بم حملے کے ملزم فیصل شہزاد کو پاکستانی طالبان کا تعاون اور مدد حاصل تھی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت پاکستان اس منصوبہ بندی سے بے خبر تھی۔

پاکستانی حکومت کو اس واقعہ سے بری الذمہ قرار دینے کے ساتھ ہی پاکستان کے بارے میں سخت مؤقف کے اظہار کے باوجود اسلام آباد کی جانب سے اس نئی صورتحال ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان اور حکومت نےاس بارے میں واضح مؤقف اختیار نہیں کیا لیکن دفتر خارجہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ہیلری کلنٹن کی ’دھمکی‘ کے معاملے پر دفتر خارجہ اور وزیراعظم ہاؤس کے درمیان تبادلہ خیال ہوا ہے۔

ان ذرائع کے مطابق امریکی وزیرخارجہ کے بیان کے مضمرات کا جائزہ لینے کے بعد ایوان وزیراعظم سے آنے والے ایک استفسار پر بتایا گیا کہ ہیلری کلنٹن کے اس بیان کے مضمرات زیادہ سنگین ہونے کا امکان نہیں ہے۔

تاہم دفترخارجہ کے مشورہ پر اس پر مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر کو وزیراعظم ہاؤس آنے کی دعوت دی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس کے بعد تین روز میں امریکی سفیر اور پاکستانی وزیراعظم میں دو ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں اور امریکی وزیرخارجہ کے بیان کے مضمرات کا تفصیلی جائزے کا عمل ابھی دفتر خارجہ میں مکمل نہیں ہوا لیکن ابھی تک اس بارے میں زیادہ تشویش بھی موجود نہیں ہے۔

پالیسی معاملات پر تحقیق کے سرکاری ادارے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اپری) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نورالحق کا کہنا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ کا بیان ان کے ملک پر حملے کی کوشش پر غصے کے اظہار کے لیے جاری کیا گیا تھا لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ امریکا پاکستان کے خلاف کوئی سنگین کارروائی کرنے جا رہا ہے۔

’اتنے بڑے واقعے کے بعد اس طرح کا ردعمل فطری ہے کیونکہ انہیں (حکومت کو) اپنے عوام کو بھی بتانا ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے کی سنگینی سے باخبر ہیں۔ لیکن جیسے جسیے حقائق سامنے آتے جائیں گے زیادہ منطقی آوازیں سامنے آنا شروع ہو جائیں گی‘۔

سرکاری تحقیقی ادارے کے سینئر تحقیق کار نے البتہ کہا کہ امریکہ کے ماضی کے خدشات کے عین مطابق اگر اس معاملے کے تانے بانے شمالی وزیرستان سے ملے تو حکومت کے لیےاس علاقے میں کارروائی کرنا ضروری ہو جائے گا۔

’ابھی تک پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں بھرپور کارروائی سے اجتناب کرتی رہی ہے لیکن اب امریکہ ہم پر اس کارروائی کے لیے دباؤ بڑھا سکتا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمیں اپنی استطاعت کے مطابق شمالی وزیرستان میں بھی کارروائی کرنا پڑے گی‘۔

ڈاکٹر نورالحق نے حکومت کی جانب سے امریکی دھمکی کا جواب نہ دینے کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیرخارجہ اور اٹارنی جنرل نے ابھی تک جو کچھ کہا ہے وہ فوری اور ابتدائی ردعمل کے زمرے میں آتا ہے جس کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔

’ہمیں اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی ضرورت تب ہب گی جب اس واقعے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد امریکہ کی جانب سے پالیسی بیان میں بھی پاکستان کے بارے میں اسی طرح کا مؤقف اخیار کیا جائے‘۔

اسی بارے میں