مشتبہ جوتوں کی کہانی، فیض کی زبانی

فیض محمد
Image caption مشتبہ جوتے وائبریٹر شوز ہیں جو مقامی نہیں ہیں ان کے اندر اور باہر وائبریٹر تحریر ہے۔

کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے گرفتار کیے گئے مشتبہ مسافر فیض محمد نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ ان جوتوں سمیت پہلے بھی مسقط جاچکے ہیں، جو اس کی گرفتاری کا سبب بنے ہیں۔

سکیورٹی حکام نے گزشتہ رات فیض محمد کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ تھائی ائر لائنز کی ایک پرواز کے ذریعے مسقط جانے کے لیے ہوائی اڈے پہنچا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ تلاشی کے وقت سکینر کے الارم بج اٹھے بعد میں محمد فیض کے جوتوں میں سے بیٹری سیل اور الیکٹرک سرکٹ برآمد کیا گیا۔

ائرپورٹ سکیورٹی فورس نے فیض محمد کو پولیس کے حوالے کیا ہے، تفتیشی پولیس کے اہلکار ایس پی نیاز کھوسو نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا ہے کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں بتایا ہے کہ مشتبہ جوتے وائبریٹر شوز ہیں جو مقامی نہیں ہیں ان کے اندر اور باہر وائبریٹر تحریر ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا ہے کہ اس نے استعمال شدہ جوتوں کی دکان پر یہ جوتے دیکھے تھے اور دکاندار نے اسے بتایا تھا کہ ان کے پہننے سے آرام ملتا ہے چونکہ مسقط میں ان کا کام زیادہ تر کھڑے رہنے کا ہے اس لیے انہوں نے یہ خرید لیے۔

دکاندار نے کہا تھا کہ اس کے پاس ان شوز کی بیٹری چارج کرنے والا چارجر دستیاب نہیں ہے، مگر یہ مارکیٹ میں دستیاب ہے مگر انہوں نے یہ چارجر نہیں خریدا۔

ایس پی نیاز کھوسو کے مطابق ملزم کی نشاندھی پر پولیس دکاندار سے پوچھ گچھ کرے گی اور جوتوں کے بارے میں ماہرین سے رائے لی جائے گی۔

فیض محمد سول انجنیئر ہیں اور وہ کراچی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں تاہم ان کا اصل تعلق صوبہ خیبر پختون خواہ صوبے کے ضلع مانسہرہ سے ہے۔ وہ مسقط میں تعمیراتی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔

مشتبہ ملزم نے کسی بھی مذہبی یا شدت پسند تنظیم سے وابستگی سے انکار کیا ہے جبکہ تفتیشی پولیس کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ سے جوائنٹ انٹروگیشن کے لیے کہا گیا ہے، جہاں سے اجازت ملنے کے بعد تمام تفتیشی ادارے ملزم سے مشترکہ تفتیش کریں گے، جس میں خفیہ ادارے کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

اسی بارے میں