مشرف، پاکستانی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ

جنرل ریٹائرڈ مشرف
Image caption پرویز مشرف نے چھ برس جس سیاسی گھوڑے میں بزعم خود جان ڈال کر سواری کی، وہ اب ان کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔

پاکستانی سیاست میں وارد ہونے کے لیے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اعلان کے لیے تقریب کی اجازت دینے سے نیشنل پریس کلب کی انتظامیہ کا انکار فوجی آمر کے لیے اشارہ ہے کہ ابھی پاکستان میں سیاسی فضا ان کے لیے سازگار نہیں ہے۔

سابق صدر کے مداحوں کی تنظیم پاسدار پاکستان نے اسلام آباد کے نیشنل پریس کی انتظامیہ سے گزشتہ ہفتے ایک تقریب منعقد کرنے کی درخواست کی جسے ابتدائی طور پر منظور کر لیا گیا۔

لیکن جب پریس کلب کی انتظامیہ کو معلوم ہوا کہ سابق صدر اس تقریب سےویڈیو لنک کے ذریعے خطاب بھی کرنے والے ہیں تو پاسدار انقلاب کی قیادت کوبتایا گیا کہ وہ یہ خطاب سننے کا بندوبست کہیں اور کر لیں۔ صحافیوں کےادارے پریس کلب کی انتظامیہ کا موقف تھا کہ سابق صدر پہلے تین نومبر دوہزار سات کو لگنے والی ایمرجنسی میں صحافیوں اور صحافتی اداروں کے ساتھروا رکھے گئے اپنے سلوک پر معافی مانگیں۔

اس انکار کے بعد جنرل مشرف کے خطاب کو سننے کا انتظام ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔

پرویز مشرف کے لیے یہ انکار چیف جسٹس افتخار چوہدری کے مشہورزمانہ ’انکار‘ جتنا اندوہناک تو نہیں ہونا چاہیے لیکن انہیں اندازہ ضرور ہو گیا ہو گا کہ پاکستانی سیاست میں وارد ہونے کے لیے ابھی انہیں شاید مزید بہت سے انکار سننے ہوں گے۔

سابق صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ فیس بک پر ان کے مداحوں کی تعداد ایک لاکھ پچھہتر ہزار ہو چکی ہے اور یہ کہ وہ امریکہ اور برطانیہ میں جہاں بھی گئے وہاں رہنے والے پاکستانیوں نے ان سے بے پناہ محبت اور وابستگی کا اظہار کیا۔

پاکستانیوں کے اسی سلوک سے متاثر ہو کر، سابق صدر کے مطابق انہوں نے پاکستان لوٹنے اور سیاست میں عملی حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیکن جہاں انہیں سیاست کرنی ہے وہاں زمینی حقائق اتنے رومانوی نہیں جتنے لندن کی ایجویئر روڈ اپارٹنمٹ سے نظر آتے ہیں۔

پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جس کی رہنما سابق صدر کے دور میں دن دہاڑے قتل کر دی گئیں۔ اس جماعت کی حکومت نے ایوان صدر سے رخصتی کے وقت سابق صدر کے کیے گارڈ آف آنر کا انعقاد تو کیا لیکن بینظیر قتل کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد حالات بدل چکے ہیں۔

حکمران جماعت کے بعض اہم رہنما جن میں پارٹی کے سکٹریٹری جنرل جہانگیر بدر بھی شامل ہیں اپنی حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ رپورٹ کے مطابق بینظیر بھٹو کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات نہ کرنے پر سابق حکومت کے ذمہ داروں بشمول پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پرویز مشرف نے چھ برس جس سیاسی گھوڑے میں بزعم خود جان ڈال کر سواری کی، وہ اب ان کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔ اس حقیقت کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ق) کے راہنما برملا اور کئی بار کر چکے ہیں۔

پاکستان میں میں موجودہ اپوزیشن کے سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جانے والے سیاست دان نواز شریف کے نظریات، خیالات اور ارادے بھی پرویز مشرف کے لیے موافق قرار نہیں دیے جا سکتے۔

پاکستانی میڈیا کا جزوی ردِ عمل تو سابق صدر کے لیے انکار کی صورت میں سامنے ہی آچکا ہے اور عدلیہ کے بارے میں پاکستانی حالات حاضرہ سے ذرا سی بھی واقفیت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ فوجی صدر کے ہاتھوں معزول کیے گئے تقریباً تمام جج پورے جاہ و جلال کے ساتھ اپنی مسندوں پر موجود ہیں۔

ان حالات میں پاکستانی سیاست میں آنے کے لیے پرویز مشرف کی واحد امید پاکستانی اسٹیبلشمنٹ رہ جاتی ہے جس کے ارادوں اور موڈ کے بارے میں کوئی بھی وثوق سے کچھ بھی نہیں کہ سکتا۔

اسی بارے میں