مستعفی ہونے والے ہی دوبارہ امیدوار

Image caption جعلی ڈگری کیس کے ملزموں کو ٹکٹ دینے میں مسلم لیگ نون بھی پیپلز پارٹی سے پیچھے نہیں

پاکستان میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ایک بار پھر وہی امیدوار انتخابی پنجہ آزمائی کررہے ہیں جن کے جعلی ڈگری کیسوں کی وجہ سے یہ نشستیں خالی ہوئی تھیں۔

پنجاب میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر ضمنی انتخابات کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہیں۔

پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے انہیں سیاستدانوں کو اپنا امیدوار بنایا ہے جنہیں جعلی ڈگری کے الزام میں مستعفی ہونا پڑا تھا۔

قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو اٹہتر مظفر گڑھ سے جمشید دستی پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر اپنی انتخابی مہم چلائے ہوئے ہیں اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کے حلقے میں جاکر انتخابی جلسوں سے خطاب کیا اور ترقیاتی کاموں کے اعلانات کیے ہیں۔

یہ وہی جمشید دستی ہیں جن کی جعلی ڈگری کیس کے سماعت کےدوران سپریم کورٹ کے ایک جج نے اپنے ریمارکس میں انہیں پوری پارلیمان کے لیے بے عزتی کا سبب قرار دیا تھا۔

جمشید دستی مستعفی ہونے سے پہلے نازیبا الفاظ استعمال کرنے کےجرم میں اسمبلی داخلے پر پابندی کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں جبکہ کرکٹ کے لیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ کے طور پر قومی کرکٹروں کے خلاف ان کے ریمارکس کو بعض حلقوں میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جمشید دستی کے مستعفی ہوجانے کے کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ انہیں دوبارہ پیپلز پارٹی کا ٹکٹ مل جائے گا۔شائد اسی لیے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اپنے بھائی کے لیے ٹکٹ کے حصول کی کوشش کرتے رہے لیکن جب حیرت انگیز طور پر جمشید دستی کو دوبارہ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ مل گئی تو بعض سیاسی حلقے ششدر رہ گئے۔

بہت سے لوگوں کو مخدوم امین فہیم کا قومی اسمبلی کا وہ تاریخی جملہ یاد آگیا کہ ’آصف زرداری یاروں کے یار ہیں۔‘

جمشید دستی کی پارٹی میں کیا حثیت ہے اس کا اندازہ شائد سیاست کا عام طالبلعم اتنی آسانی سے نہ لگا سکے اگر وہ پاکستان کے مرکزی لیڈروں کے مزاج سے آگاہ نہیں ہے۔

جمشید دستی کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت پر جس پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کی وجہ خود ان کی ذات نہیں بلکہ صدر آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور تھیں۔قومی اسمبلی میں فیصل صالح حیات نے ان کے بارے میں اشارۃ بات کی تھی۔جوابا جمشید دستی نے جو زبان استعمال کی وہ نہ صرف فوری طور پر قومی اسمبلی کے اجلاس کے التوا کاسبب بنی بلکہ خود ان کی رکنیت بھی معطل رہی تھی۔

پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اور مسلم لیگ قاف کےپارلیمانی لیڈر فیصل صالح حیات نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمشید دستی سمیت ضمنی انتخابات میں دیگر امیدواروں کی نامزدگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پارٹیوں میں میرٹ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے صرف پسند ناپسند کی بات ہے۔

مظفرگڑھ سے ہی پیپلز پارٹی نےجعلی ڈگری کیس کی وجہ سے نااہل ہونے والے اللہ وسایا چنوں کو اسی صوبائی نشست پر دوبارہ اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے۔

وہاڑی سے این اے ایک سو سڑسٹھ مسلم لیگ قاف کے نذیر جٹ کے جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہونے کی وجہ سے ضمنی انتخابات ہورہے ہیں۔دیگر مستعفی ہونے والے امیدواروں کےبرعکس عدالت نے نذیر جٹ کے ضمنی انتخاب میں شرکت پر بھی پابندی لگا دی تھی۔نذیر جٹ کو مسلم لیگ نون میں جگہ نہیں ملی تو پیپلز پارٹی نے گلے لگایا اور تحفہ کے طور پر ان کے بھتیجے اصغر جٹ کو پارٹی ٹکٹ پیش کردی۔

جعلی ڈگری کیس کے ملزموں کو ٹکٹ دینے میں مسلم لیگ نون بھی پیپلز پارٹی سے پیچھے نہیں رہی۔

پی پی ترسیسٹھ فیصل آباد سےاجمل آصف اور پی پی دوسو چھ ملتان سے مسلم لیگ قاف کی امیدوار نغمہ مشتاق کو جعلی ڈگری کیس کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا لیکن ان دنوں کو مسلم لیگ نون نے گود لے لیا اور اپنی پارٹی کی ٹکٹ دیدی۔

مبصرین کاکہنا ہے کہ ٹکٹوں کی نامزدگی کے بعد اگر ان نشستوں پر وہی امیدوار کامیاب بھی ہوجاتے ہیں جنہیں عدالتی کارروائی کے دوران نااہلی کا سامنا کرنا پڑاتھا تو یہ بعض حلقوں میں سوال ضرور اٹھے گا کہ سیاسی جماعتیں عدلیہ کے فیصلوں کا کس حد تک احترام کرتی ہیں۔

اسی بارے میں