بارہ مئی کو بھلا دیا گیا ہے؟

سابقہ فوجی حکومت کے دور میں بارہ مئی 2007ء کو کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری کی تحقیقات تین سال گزرجانے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکیں اور معاملہ اب بھی اعلٰی عدالتوں میں زیرِ التواء ہے۔

مبصرین کے بقول اس کی بڑی وجہ معاملے کے فریقین کے درمیان پایا جانے والا مہیب سا اتفاق رائے ہے جسے بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان میں شروع ہونے والی مفاہمت کی سیاست نے بھی استحکام بخشا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے ایک سات رکنی بینچ نے ان واقعات سے متعلق مقدمات کی سماعت شروع کی تھی جس کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے بار بار یہ بات دہرائی تھی کہ وہ تشدد کے واقعات کے ذمہ داروں کا تعین کرنا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں لیکن یہ شنوائی بھی 3 نومبر 2007ء کو نافذ ہونے والی ایمرجنسی کی نذر ہوگئی۔

بعد میں جنرل پرویز مشرف کے دوسرے پی سی او کے تحت لینے والے ججوں نے چار فروری 2008ء کو یہ کہہ کر ان مقدمات کو نمٹا دیا کہ ہائی کورٹ آئینی درخواستوں کی بنیاد پر کسی واقعے کی تفتیش نہیں کرسکتی۔

اس عدالتی حکم کے ٹھیک ایک مہینے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کراچی میں تقریر کرتے وکلاء کو مشورہ دیا کہ وہ بارہ مئی کے واقعے کو بھول جائیں کیونکہ ان کے بقول یہ ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔

اور شاید ایسا ہی ہوا ہے۔

کراچی کے ایک شہری اقبال کاظمی پچھلے سال بارہ مئی کا معاملہ دوبارہ عدالت میں لے گئے۔ انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں یہ درخواست دی کہ اس مقدمات کی سماعت وہیں سے دوبارہ شروع کی جائے جہاں تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ سے رکی تھی۔

ساتھ ہی انہوں نے سپریم کورٹ میں بھی ایک درخواست دائر کی تھی کہ ان مقدمات کی سماعت سپریم کورٹ کرے اور یہ سماعت اسلام آباد میں ہو تاکہ کسی قسم کا سیاسی دباؤ عدالتی کارروائی پر اثر انداز نہ ہوسکے۔

اقبال کاظمی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پوری عدلیہ کے اوپر بارہ مئی کے شہیدوں کا خون کا حساب واجب ہے کہ وہ ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ میری پٹیشن سپریم کورٹ میں موجود ہے اور میں نے جلد سماعت کی درخواست بھی ساتھ لگائی ہوئی ہے۔ اب عدلیہ کو چاہیے کہ وہ اس فرض کو ادا کرے جو اس پر ایک قرض بھی ہے کیونکہ بارہ مئی کو لوگوں نے عدلیہ کی آزادی کے لیے جانیں دی تھیں۔‘

سینئر قانون دان اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ابرار حسن بارہ مئی کے مقدمات کے اہم فریق ہیں۔ انہوں نے ہی اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو کراچی آنے کی دعوت دی تھی۔وہ سمجھتے ہیں کہ بارہ مئی کے واقعات کی تحقیقات کو کسی نتیجے پر پہنچانا ضروری ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے۔

’اگر یہ نہیں ہوتا ہے تو گویا جو پچاس معصوم جانیں اس روز ضائع ہوئیں ان کا خون رائیگاں چلا جائے گا۔ ایک مہذب معاشرے کی حیثیت سے ہمیں چاہیے کہ ہم جو بھی جرم جہاں بھی ہوتا ہے اسے منطقی انجام تک پہنچائیں اور اسکے ذمہ داروں کو سزا دیں‘۔

ابرار حسن نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بارہ مئی کے ذمہ داروں کو بے نقاب کرے اور انہیں سزا دلائے۔

لیکن تجزیہ کار ڈاکٹر توصیف احمد کہتے ہیں کہ بارہ مئی کے واقعات کی تحقیقات کے معاملے میں سیاسی جماعتوں اور عدالتی اور قانونی حلقوں کے رویے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔

’سپریم کورٹ نے پچھلے ایک سال کے دوران بہت سارے اہم اور بعض غیر اہم معاملات پر از خود کارروائی کی ہے مگر جن معاملات پر انہوں توجہ نہیں دی اس میں یہ ایک بارہ مئی کا بھی واقعہ ہے۔ اسی طرح وکلاء تنظیموں نے بھی اس معاملے پر اپنے احتجاج کو علامتی احتجاج میں تبدیل کردیا تو لگتا یہ ہے کہ معاشرے میں اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے کہ اس معاملے کو علامتی حد تک ہی رکھا جائے۔‘

ڈاکٹر توصیف احمد کے بقول اس اتفاق رائے کی بناء پر اب بارہ مئی کے واقعات کو صرف عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے ایک باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور عدلیہ اور حکومت سمیت کوئی نہیں چاہے گا کہ اس باب کو دوبارہ کھولا جائے۔

اسی بارے میں