فاطمہ بھٹو کا انتقام

Image caption کیا ’لہو اور تلوار کے گیت‘ کیا بھٹو خاندان کی تاریخ کے بارے میں ایک معتبر تحریر ثابت ہو سکتی ہے؟

کہتے ہیں کہ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں نظر سے گزرانا ہی کافی ہوتا ہے لیکن بعض ایسی جنہیں نہ صرف نگل جانا چاہیے بلکہ انہیں ہضم کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔

بھٹو خاندان کی چشم و چراغ فاطمہ بھٹو نے بھی ایک ایسی کتاب لکھی ہے جسےآپ شاید نگل تو جائیں لیکن اسے ہضم کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔

’سانگز آف بلڈ اینڈ سورڈ یا ’لہو اور تلوار کے گیت‘ کئی ممالک میں ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہے اور شاید بیسٹ سیلر بھی بن جائے لیکن کیا وہ بھٹو خاندان کی تاریخ کے بارے میں ایک معتبر تحریر ثابت ہو سکتی ہے۔

فاطمہ بھٹو نے اپنی اس کتاب میں اپنے والد مرتضیٰ بھٹو کی سوانح عمری لکھنے کی کوشش کی ہے اور ان پر لگے دہشتگردی کے الزام سے انہیں بری الذمہ کرانے اور انہیں اس راہ پر دھکیلنے والے خاندانی حالات کا تفصیلاً ذکر کیا ہے۔

کتاب کے آغاز سے لے کر آخر تک جس استقامت سے بینظیر بھٹو کو ایک چال باز اور گھناونی شخصیت ثابت کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ شاید کسی غیر ملکی قاری کو تو قائل کر لے لیکن وہ شاید ہی کسی پاکستانی کو قائل کر سکے گی۔

فاطمہ بھٹو چودہ برس کی تھیں جب بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں ان کے والد کو کراچی میں ان کے گھر کے باہر پولیس نے ہلاک کر دیا۔ فاطمہ بھٹو کا الزام ہے کہ ان کے والد کے قتل کا مقصد دراصل بھٹو خاندان کے اصلی جانیشن کو راہ سے ہٹانا تھا۔

فاطمہ لکھتی ہیں کہ ان کی پھوپھی بینظیر بھٹو جسےوہ’وڈی بوا’ کہتی ہیں، بچپن سے ہی ان کے والد میر مرتضیٰ پر غلبہ پانے کی کوشش کرتی رہتی تھیں اور بھٹو خاندان کی سیاسی وارث بننے کی کوشش کرتی رہیں۔

فاطمہ بھٹو اپنی’وڈی بوا‘ کی مخالفت میں اتنی آگے چلی گئی ہیں کہ انہوں نے کتاب کا آغاز ہی پیپلز پارٹی کی حکومت کی چند ایک کامیابیوں میں سے ایک پر تنقید سے شروع کیا۔ وہ لکھتی ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی میں ’آپریشن کلین اپ’ کے نام پر قتل عام کیا۔

Image caption آصف زرداری کی’ کرپشن’ ان کا انفرادی فعل نہیں ہے

فاطمہ بھٹو اپنے والد کی ہلاکت کے واقع کو شروع کرنے سے پہلے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ بطور ’ممبر پارلیمنٹ’ حق رکھتے تھے کہ وہ جب چاہیں کسی بھی تھانے میں نمودار ہو کر وہاں مقید لوگوں کو رہا کرا سکیں۔ مرتضیٰ بھٹو لاڑکانہ سے صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے لیکن فاطمہ بھٹو انہیں ممبر پارلیمنٹ لکھنے پر بضد ہیں۔

فاطمہ بھٹو نہ چاہتے ہوئے بھی تاثر پیدا کر رہی ہیں کہ مرتضیٰ بھٹو اپنے باڈی گارڈوں کی فوج کے ہمراہ کراچی شہر میں دندناتے پھرتے تھے۔حکومتِ وقت کا بھی یہی موقف تھا کہ سکیورٹی اداروں نے مرتضی بھٹو کو ان کے باڈی گارڈوں کےحصار سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔

فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ انہیں اپنے والد کی موت کی خبر کی تصدیق پرائم منسٹر ہاؤس سے ہوئی جہاں نے انہوں نے اپنی پھوپھی کو فون کیا لیکن ان کے شوہر آصف زرداری نے یہ کہہ کر بینظیر بھٹو سے بات کرانے سے انکار کر دیا کہ وہ بھائی کی موت کا سن کر ہیجان کی کیفیت میں ہے۔

اپنے خاندان کے بارے میں لکھتے ہوئے فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ ان کے دادا ذولفقار علی بھٹو جب بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے پاکستان لوٹے تو انہیں ایک نئی دلہن کی سوجھی اور اسی دوران ان کی ملاقات ممبئی کےایک ایرانی نژاد صابن بیچنے والے ’صبونچیے‘ کی خوبصورت بیٹی نصرت سے ہوئی جس کی وساطت سے وہ سکندر مزرا تک پہنچ گئے اور پھر حکومت میں شامل ہوگئے۔

فاطمہ بھٹو اپنی خاندانی جاگیر کا فخریہ انداز میں ذکر کرنے کے فوراً بعد معذرت خواہانہ رویہ اپنا کر یہ ثابت کرنے پر نکل پڑتی ہیں کہ ان کے والد مرتضیٰ بھٹو جاگیردارانہ سوچ نہیں رکھتے تھے کیونکہ ان کی پرورش لاڑکانہ میں نہیں بلکہ راولپنڈی میں ہوئی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اپنے باپ کو کچھ ایسے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں جسیے وہ بیسویں صدی کے چی گوریا تھے۔

فاطمہ لکھتی ہیں کہ مرتضیٰ بھٹو اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کو رہا کرانے کے لیےلندن سے پرامن جہدوجہد کر رہے تھے کہ انہیں اچانک والد کی طرف سے ایک خط ملا جس میں انہیں ہدایت کی گئی کہ اگر انہیں ہلاک کر دیا گیا تو دونوں بھائی مسلح جہدوجہد شروع کر دیں۔ فاطمہ بھٹو کے بقول اس خط میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے بیٹوں کو کہا کہ’اگر تم بھائیوں نے میرا بدلہ نہ لیا تو میں سمجھوں گا کہ تم میری اولاد ہی نہیں ہو‘۔

فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہہ انہوں نے یہ خط خود نہیں پڑھا اور نہ ہی ان کے والد نے ان کو اس بارے میں بتایا بلکہ انہیں اس خط کا علم اپنے والد کی یونانی گرل فرینڈ ڈیلا رونک سے ہوا۔

کتاب کا ایک بڑا حصہ فاطمہ بھٹو نے اپنے والد کی گرل فرینڈ ڈیلا رونک پر صرف کر دیاہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ڈیلا یونانی جنرل روفوگالس کی بیوی تھی اور جنرل کی حراست کے دوران وہ مرتضی بھٹو کی دوست بن گئیں اور دوست بھی اتنی قریبی کے مرتضیٰ بھٹو ڈیلا کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ مرتضیٰ بھٹو کو اپنے والد کی پھانسی کی خبر بھی اس وقت ملی جب وہ ڈیلا کے ہمراہ تھے۔ فاطمہ بھٹو اپنی افغان ماں فوزیہ اور ان کی بہن ریحانہ سے اپنے باپ اور چچا شاہنواز کی دوستی کا بھی تفصیلی ذکر کرتی ہیں۔

Image caption ’وڈی بوا’ نے میرے والد مرتضیٰ بھٹو کو فوج کےمشورے کے بعد جیل سے رہا کیا: فاطمہ بھٹو

فاطمہ بھٹو نے اپنی پوری کتاب میں کسی ایک موقع پر بھی بینظیر بھٹو کی سیاسی جہدوجہد کی تعریف نہیں کی بلکہ لکھتی ہیں کہ جب بینظیر بھٹو نے 1988 میں وطن واپسی کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے ضیا الحق کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ وہ حکومت کے لیے نہیں بلکہ ایم آر ڈی کے لیے خطرہ ہوں گی۔

فاطمہ بھٹو بتاتی ہیں کہ ان کے والد کو شام اور لبیا سے کتنے ہتھیار ملے اور ایک ایسا موقع بھی تھا کہ جب ان کے والد اسلحہ سے بھرا ہوا جہاز لے کر کابل پہنچے۔ وہ لکھتی ہیں کہ دبئی کے بادشاہ شیخ زید بن سلطان النہیان نے ان کے والد کو مسلح جدوجہد کرنے سے منع کیا اور صرف دس ہزار ڈالر کی امداد کی۔ فاطمہ لکھتی ہیں کہ ان کے والد شیخ زید بن سلطان کی رقم کو اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے تھے اسی لیے اس رقم سے اپنی گرل فرینڈ ڈیلا رونک کے لیے رولیکس گھڑی کا تحفہ خرید لیا۔

الذولفقار نامی تنظیم کی طرف سے پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرنے کے بارے میں کہتی ہیں کہ سلام اللہ ٹیپو ہمیشہ سے مشکوک تھے اور وہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ کابل میں الذولقفار کے تربیتی کیمپ میں مرتضیٰ بھٹو سے مل چکے تھے۔

فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ سلام اللہ ٹیپو نے دو مرتبہ پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرنے کی تجویز پیش کی لیکن ان کے والد نے ہر بار یہ تجویز مسترد کر دی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد کو پی آئی اے کے طیارے کے اغوا کا پتہ اس وقت چلا جب انہیں کابل ہوائی اڈے کے ائر کنٹرول ٹریفک سے کال موصول ہوئی۔وہ لکھتی ہیں کہ طیارہ اغوا کرنے کا فیصلہ ان کے والد کا نہیں بلکہ سلام اللہ ٹیپو کا ذاتی تھا۔

فاطمہ بھٹو طیارے کے اغوا سے پیدا ہونے والی مشکلات کا دوش بھی بینظیر بھٹو کو دیتی ہیں جس نے طیارے کے اغوا کی خبر پر خوشی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ’ ہمارے لوگوں نے یہ کارنامہ کر دکھایا ہے۔‘۔ فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ انہوں نے جب بھی ’وڈی بوا‘ کے دوستوں سے طیارے کے اغوا کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو جواب ملا:’ نہیں نہیں بینظیر تو ہمیشہ پرامن سیاسی جہدوجہد پر یقین رکھتی تھیں۔‘ یہ بتائے بغیر کہ وہ بینظیر بھٹو کی کس دوست سے ملیں وہ اپنا فیصلہ صادر کرتی ہیں کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

فاطمہ بھٹو کی بینظیر بھٹو سے نفرت اس وقت انتہا پر نظر آتی ہے جب وہ اپنے چچا شاہنواز بھٹو کی ہلاکت کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ اس وقت ان کی عمر صرف تین برس تھی اور وہ دمشق سے اپنے والدین کے ہمراہ فرانس کے شہر نِس میں شاہنواز بھٹو کے ہاں ٹھہری ہوئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھائے جانے کے بعد سارا بھٹو خاندان فرانس میں اکھٹا ہوا تھا۔

وہ لکھتی ہیں کہ جب بھٹو خاندان ساحل سمندر پر باربی کیو کے بعد رات گیارہ بجے فلیٹ پر پہنچا تو شاہنواز بھٹو اور ان کی افغان بیوی ریحانہ میں کشیدگی عروج کو پہنچ چکی تھی۔ ریحانہ کی ناراضی اتنی بڑھی کہ اس نے مرتضیٰ بھٹو اور اس کے خاندان کو فوراً فلیٹ سے نکل جانے کا مطالبہ کیا اور فلیٹ سے نکال کر دم لیا۔

اسی رات شاہنواز بھٹو وفات پا گئے۔ فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ شاہنواز بھٹو کے پاس ایسی پینٹراکس زہر بھی موجود تھی جو انہیں مسلح جہدوجہد کی تربیت دینےوالوں نے دی تھی تاکہ وہ جنرل ضیاالحق کے چنگل میں جانے کی ذلت سے بچنے کے لیے خود کو ہلاک کر لیں۔

Image caption لوگ جب مجھے کہتے ہیں کہ میری شکل بینظیر بھٹو سے ملتی ہے تو میرے پاس کچھ کہنے کو نہیں ہوتا: فاطمہ بھٹو

فاطمہ لکھتی ہیں کہ جب وہ کتاب لکھ رہی تو وہ فرانس میں اس وکیل سے ملیں جس نے شاہنواز بھٹو کے قتل کا مقدمہ لڑا تھا۔ فاطمہ کہتی ہیں کہ اس وقت ان کا بدن کانپنے لگا جب اسی سالہ وکیل ژاک ورجس نے انہیں بتایا کہ بینظیر بھٹو نے شاہنواز بھٹو کے قتل کو دبانے کے لیے دباؤ ڈالا ورنہ میر مرتضیٰ اس کو سکینڈل بنانا چاہتے تھے۔ فاطمہ بھٹو کے خیال میں بینظیر بھٹو سی آئی اے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھیں۔

وہ لکھتی ہیں کہ ان کے والد یہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ شاہنواز بھٹو نے خود کشی کی ہے کیونکہ وہ ایک کامیاب، دلیر اور معاشی طور پر آسودہ شخص تھا۔

فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ ان کے والد آصف زرداری کو ہمیشہ ’چور‘ کہتے تھے۔ وہ لکھتی ہیں کہ آصف علی زرداری نے میر مرتضیٰ بھٹو سے اپنی دوسری ملاقات کے دوران ان کو رشوت کی ترغیب دی اور کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ’ڈیل‘ کر رہے ہیں اور اگر مرتضیٰ چاہیں تو وہ ان کو بھی حصہ دار بنا سکتے ہیں۔میرے باپ نے آصف زرداری کو جواب دیا’ زرداری بھٹو ایسا نہیں کرتے۔‘

فاطمہ کا دعویٰ ہے کہ آصف علی زرداری کی کرپشن اس کا انفرادی فعل نہیں تھا بلکہ ان کی ’وڈی بوا‘ بھی مکمل شریک تھیں۔

پیپلز پارٹی کے ایک سابق سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام حسین کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ جب انہوں نے بینظیر بھٹو کو آصف علی زرادی کی کرپشن کے بارے میں آگاہ کرنا چاہا تو جواب ملا ’ڈاکٹر صاحب ہمارا جن سے مقابلہ ہے ان کے پاس ٹنوں کے حساب سے پیسہ ہے‘۔ وہ لکھتی ہیں کہ بینظیر بھٹو شاید شریف خاندان کا مقابلہ کرنے کے لیے دولت اکٹھی کر رہی تھیں۔

فاطمہ بھٹو کو یہ بھی شکایت ہے کہ جب ان کے والد نے شام سے واپس پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو صدر حافظ الاسد نے انہیں اپنے خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان بھیجنے کی پیشکش کی لیکن ان کی’ وڈی بوا‘ کی حکومت نے صدر اسد کے طیارے کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔

Image caption فاطمہ بلاول بھٹو زرداری کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتیں

وہ لکھتی ہیں کہ جب ان کے والد واپس پاکستان پہنچ گئے اور انہیں تمام الزمات سے باعزت بری کر دیا گیا تب بھی ان کی پھوپھی انہیں جیل سے رہا نہیں کرنا چاہتی تھیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد کو فوج کی طرف سے مرتضیٰ بھٹو کو ’ہیرو’ نہ بنانے کے مشورے پر رہا کیا گیا۔

فاطمہ بھٹو جب اپنے باپ کی موت کا احوال بیان کرتی ہیں تو اس وقت ان کا انداز بیان زوردار اور جذباتی ہو جاتا ہے اور وہ بتاتی ہیں کہ ستر کلفٹن کے باہر جب ان کے والد کے قافلے پر پولیس نے حملہ کیا تو وہ زخمی ضرور ہوئے لیکن ہلاک نہیں ہوئے اور پولیس نے ان کو اپنی ایک گاڑی میں ڈال کر گولی ماری اور پھر کراچی کے مڈایسٹ ہسپتال کے دروزے پر پھینک دیا۔ وہ لکھتی ہیں کہ مڈایسٹ ہسپتال میں ایمرجنسی کے کیسز سے نمٹنے کا نہ تو تجربہ تھا اور نہ ہی آزار۔

فاطمہ بھٹو نے پاکستان کے سابق صدر فاروق احمد لغاری کے حوالے سے لکھا ہے کہ آصف زرداری نے انہیں کہا تھا کہ اس ملک یا میں رہ سکتا ہوں یا مرتضیٰ بھٹو۔

کتاب میں فاطمہ بھٹو اپنی زندہ پھوپھی صنم بھٹو کا صرف ایک بار ہلکا سا ذکر کرتی ہیں اور بینظیر بھٹو کی اولاد کا وہ سرے سے نام لینا بھی پسند نہیں کرتیں۔

پاکستان کے عوام کو بینظیر بھٹو سے ہزاروں شکایتیں ہوں گی لیکن جس طرح انہوں نے تاریخ کے بدترین ڈکٹیٹر کا ایک عشرے تک مقابلہ کر کے ملک میں جمہوریت کو واپس لایا اس سے کسی کو انکار نہیں۔ فاطمہ بھٹو کو قطعی طور پر اس کا علم نہیں ہے کہ ان کی ’وڈی بوا’ کتنے عرصے تک جیل میں رہیں۔

فاطمہ بھٹو شاید یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جس پیپلز پارٹی پر اپنے والد کا حق سمجھتی ہیں وہ پیلز پارٹی تو ان کے دادا کے پھانسی پر چڑھائے جانے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھی اور جب ان کے والد سترہ سال بعد واپس پاکستان لوٹے تو جو پیپلز پارٹی موجود تھی وہ ذوالفقار علی بھٹو کی نہیں بلکہ بینظیر بھٹو کی جماعت تھی۔

فاطمہ بھٹو نے ایک وفادار بیٹی کا کردار تو ضرور نبھایا ہے لیکن اچھے مصنف کے لیے جتنی دانشوانہ دیانتدای کی ضرورت ہوتی ہے’ لہو اور تلوار کے گیت’ کے ہر باب میں اس کا واضح فقدان نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں