عدالت میں طلبی پر استعفے کا نوٹیفیکشن

قومی مصالحتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی طرف سے سابق سیکرٹری قانون جسٹس ریٹائرڈ عاقل مرزا کو طلب کیے جانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اُن کے استعفے کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عاقل مرزا نے گُزشتہ ہفتے صحت کی خرابی کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جمعرات کو این آر او سے متعلقہ درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے سیکرٹری قانون اور قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نوید احسن کو عدالت میں طلب کیا جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ سیکرٹری قانون عاقل مرزا اپنے عہدے سے مستعفی ہوچکے ہیں۔

اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالمُلک نے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق سے استفسار کیا کہ کیا عاقل مرزا کا استعفی منظور ہوچکا ہے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ سابق سیکرٹری قانون کا استعفی منظوری کے مراحل سے گُزر رہا ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جب تک کسی کا استعفٰی منظور نہ ہو جائے اُس وقت تک اُسے اپنے عہدے پر ہی تصور کیا جاتا ہے اس لیے عاقل مرزا اور نیب کے چیئرمین جمعہ کو ریکارڈ سمیت عدالت میں حاضر ہوں۔

تاہم عدالت کی طلبی کے کچھ ہی گھنٹے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے عاقل مرزا کے استعفے کی منظوری کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ چھ مئی کو ان درخواستوں کی سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایک بیان عدالت میں جمع کروایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سوئس مقدمات ختم ہوچکے ہیں لہذا متعلقہ حکام کو خط لکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے اس بیان کے بعد عدالت نے سیکرٹری قانون اور نیب کے چیئرمین کو تیرہ مئی کو عدالت میں طلب کیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سابق سیکرٹری قانون بیمار بھی ہیں اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر بینچ میں شامل جسٹس راجہ فیاض کا کہنا تھا کہ کیا اس ضمن میں کوئی درخواست عدالت میں پیش کی گئی ہے جس کا اٹارنی جنرل کوئی جواب نہیں دے سکے۔

عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل احمد ریاض شیخ کی تعیناتی سے متعلق سیکرٹری داخلہ کو بھی عدالت میں طلب کیا ہے۔ مزکورہ ایف آئی اے کے اہلکار کے خلاف دائر مقدمات این آر او کے تحت ختم کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں