خسارہ: سولہ ٹرینیں بند کرنے کا فیصلہ

پاکستان ریلویز نے خسارے سے بچنے کے لیے سولہ ٹرینیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ریل کے کرایوں میں بھی پندرہ فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔

فائل فوٹو، پاکستان ریل وے
Image caption مزید ایک سو بیس ٹرینوں کو مرحلہ وار بند کرنے کا امکان ہے: اشفاق خٹک

یہ اعلان پاکستان ریلویز کے جنرل مینیجر اشفاق خٹک نے جمعرات کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

اشفاق خٹک کے مطابق پاکستان ریلویز کو گزشتہ آٹھ ماہ میں نو ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ ٹرینیں جن کو چلانے کے اخراجات زیادہ تھے اور ان سے کم آمدنی ہو رہی تھی انہیں بند کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک سو بیس ٹرینیں ایسی ہیں جو خسارے کا باعث ہیں اور ریلوے کو جو آمدنی حاصل ہوتی ہے ان کا صرف پانچ فیصد ان ایک سو بیس ٹرینوں سے حاصل ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان ٹرینوں کو بھی مرحلہ وار بند کرنے کا امکان ہے۔

ہماری نامہ نگار مونا رانا کا کہنا ہے کہ اشفاق خٹک کے مطابق پاکستان ریلویز کے صرف ڈیزل کی مد میں بارہ ارب روپے کے سالانہ اخراجات میں اور ڈیزل کی قیمت میں متعدد بار اضافہ بھی ہوا ہے جب کہ ریل کے کرایے بڑھائے نہیں گئے اس لیے کرایوں میں پندرہ فیصد اضافہ کرنے کی درخواست بھی زیر غور ہے۔

اشفاق خٹک کا کہنا تھا کہ پٹرولیم کپمنی کو ڈیزل کی فراہمی کے لیے دو سو پچاس ملین روپے کی رقم ادا کر دی گئی ہے اب کوئی ٹرین ایندھن نہ ہونے کے سبب بند نہیں کی جائے گی تاہم اشفاق خٹک کے مطابق وہ ٹرینیں جو خسارے کے سبب بند کی گئیں ہیں ان سے جو رقم بچائی جائے گی اس رقم کو پاکستان ریلویز کے دیگر شعبوں میں ترقی کے لیے استعمال کی جائے گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز کا خسارہ اپنی جگہ لیکن عام پاکستانی کے لیے ابھی بھی ریل کے کرایےکافی زیادہ ہیں اور ریل کے کرایوں میں اضافے اور ٹرینیں بند کرنے سے مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے

اسی بارے میں